ایسی عورت دیکھتے ہی سمجھ جاؤ یہ منافق عورت ہے۔

کیا عورت گھر کی عورتوں کے سامنے پتلا کپڑا پہن سکتی ہے باریک کپڑا سیدہ عائشہ ؓ کے پاس بنو تمیم کی عورتیں آئیں اور انہوں نے باریک لباس پہن رکھا تھا تو سیدہ عائشہ ؓ نے صرف اتنی بات کہی اگر تو تم مومنہ عورتیں ہو تو پھر یہ مومنہ عورتوں کا لباس نہیں ہے اور اگر تم مومنہ نہیں ہوتو پھر تم پر کوئی پابندی نہیں ہے اس لئے گھر کے اندر آپ اپنے خاوند کے لئے اپنے گھر میں جو بھی کچھ پہن لیں

جس سے آپ کا حسن جس سے آپ کی زینت کسی غیر عورت کے سامنے بھی جاتی ہے اس سے گریز کرنا چاہئے ایک وہ زینت ہے جس کی شریعت نے اجازت دی ہے ایک وہ زینت ہے جس سے شریعت نے منع کردیا ہے تو ایسی دونوں زینتوں میں فرق کرنا ہوگا شریعت نے کس بات سے منع کیا ہے عورت ایسا کپڑا مت پہنے جس سے اس کے جسم کے خدو خال واضح ہوں یہ صرف گھر کے لئے ہے یہ صرف اپنے خاوند کے لئے ہے یہ دوسروں کے لئے نہیں ہونا چاہئے

باقی جو اس کی ظاہری زینت ہے جس کو شریعت نے جائز قرار دیا ہے اسی طرح وہ زیب و زینت کرتی ہے اس کے بھی گھر میں رہ کر جائز ہے اور سیدنا سلیمان کی بات کو بنیاد بنا کر اپنے رویوں کو درست کیاجاسکتا ہے کہ مومنہ اپنے خاوند کے لئے سج دھج کرتی ہے اور منافقہ اس کے لئے نہیں لوگوں کے لئے زیب و زینت اختیار کرتی ہے ۔زیب و زینت کے باب میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے

کہ ایسا انداز اختیار نہ کریں جس سے تشبہ بالرجال یا تشبہ بالفاسقات مترشح ہو۔ اور نہ ہی یہ سمجھیں کہ شریعت کی مباح کردہ ہرصورت پر بیک وقت عمل کرنا لازم ہے،لہذا زیب و زینت کے سلسلے میں تمام جائز صورتوں پر بیک وقت عمل کیا جا ئے۔اگرچہ فی نفسہ وہ تمام صورتیں جائز ہیں لیکن ان میں مبالغہ سے کام لینا جائز نہیں۔ موجودہ معاشرے میں کنواری اور بےشوہر عورتوں کے لئے صفائی و سادگی، زیب و زینت بدرجہا بہتر ہے۔ شادی شدہ عورتوں کے لئے بھی مناسب ہے کہ شوہر کی پسند اور ناپسند کا لحاظ کرتے ہوئے صرف ان چیزوں کو اختیار کریں جو ازروئے شرع جائز ہوں۔ بازاری اور فاسق عورتوں کی دیکھا دیکھی کسی ایسی چیز کو اختیار نہ کریں جسے وہ پہلے استعمال نہیں کرتی تھیں۔ اگر صفائی و سادگی اور حسن حقیقی پر اکتفا کرتے ہوئے باطنی حسن کو اپنے کردار و افعال سے اجاگر کریں

تو یہ مصنوعی و بناوٹی حسن سے بدرجہا بہتر ہے کیونکہ اصل حسن و جمال اخلاق و کردار کا حسن ہے۔ “حسن و جمال صرف خوبصورت چہرے کا نام نہیں بلکہ عزت و شرافت کا بھی حسن و جمال میں دخل ہے کیونکہ باوجود خوبصورتی کے شرافت پر دھبہ لگے تو سارا حسن ماند پڑ جاتا ہے۔عورت کو محض زیب و زینت کے لیے ابرو/بھنویں کے بال بنوانا ،کٹوانا وغیرہ جائز نہیں اور یہ حکم سب عورتوں کے لے ہے،جو عورت شرعی پردہ کرے،

اس کے لیے بھی یہی حکم ہے ،اور جو نہ کرے اس کے لئے بھی یہی حکم ہے،خاوند اجازت دے یا نہ دے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،بہرحال عورت کے لیے بھنویں بنانا جائز نہیں،عورت پر خاوند کے لیے چہرے کا بناؤ سنگھار شرعی حدود میں رہتے ہوئے ضروری ہے ، مگر زیب و زینت میں خلاف شرع کام کی اجازت نہیں ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *