پھو پھو کا بیٹا ہر رات کمرے میں آ کر کہتا آؤ بتاؤں

اس روز چو تھا دن تھا جب ہمارے گھر میں کچھ کھانے پینے کے لیے کچھ نہ تھا ابا کو مزدور ی نہیں مل رہی تھی اور اما ں بچاری بچوں کو دیکھتی کہ جیسے اس کا کلیجا منہ کو آ جاتا اور اپنے گھر پر ترس کھانے کے علاوہ اور کچھ کر نہیں سکتی تھی۔

تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اچانک ہمارے گھر کے دروازے پر ایک گاڑی رکی اور میری پھو پھو بڑی خوش باش حالت میں گھر میں داخل ہوئی۔ میری پھو پھو آتے ہی میری اماں اور ابا کو مبارک باد دینے لگی میں سمجھ نہیں پائی کہ آخر یہ ایسا کیوں کر رہی ہے مگر تھوڑی دیر ہی بعد پیسوں سے بھری پو ٹلی کو میری اماں کے پاس آ کر رکھی اور کہا کہ سکینہ اب تیری غربت کے دن ختم ہو گئے اب تو رونا چھوڑ اپنی قسمت پر رشک کر پیسے دیکھتے ہی اماں کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا جس عورت کے بچے پچھلے چار دن سے بھو کے ہوں۔

اس کے لیے پیسوں سے بھری پوٹلی کسی مالِ غنیمت سے کم نہیں ہوتی ایسا ہی کچھ اماں کے ساتھ ہوا پھو پھو نے وہ پوٹلی اماں کو دی اور پھر مجھے کچھ پیسے تھمائے اور بولی جا جا کر دوکان سے مٹھائی لے آ میں اس وقت گیارہ سال کی تھی سو مجھے اس وقت باہر آنے جانے پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔

میں ہر بات سے بے خبر بھاگتی ہوئی دوکان سے مٹھائی لے آئی میں نہیں جانتی تھی کہ پھو پھو اتنے عرصے مہربان کیسے ہوگئی کیونکہ پھو پھو ہمارے گھر پر تو قدم رکھنا بھی گوارا نہ کرتی تھی۔ میری پھو پھو بہت ہی چالاک عورت تو تھی ہی میں اس بات کو جانتی تھی مگر اس بات سے پتہ نہیں کیوں اس وقت بہت ہی زیادہ انجان ہو گئی تھی۔ اس نے ایک بڑے ذمہ دار آدمی سے پسند کی شادی تھی اور اسے اپنے میکے والوں سے کچھ خاص لگاؤ نہیں تھا مگر آج پتہ نہیں ہم پر کیسے مہربان ہوگئی خیر وہ تھوڑی دیر بعد ہی چلی گئی تھی اور ہمارے غربت کے دن اپنے ساتھ ہی لے کر چلی گئی تھی۔

وہ دن ہمارے گھر میں ہر وہ چیز بنتی رہی جس کی ہم بہن بھائیوں کو شدید چاہت تھی مگر میرے دل میں بار بار یہ کھٹکھا ہوتا کہ کیوں آخر کیوں پھو پھو ہمیں اس نوازش کے قابل سمجھا۔ کہ آخر ہمارے گھر آئی کیوں تھی اور اگلے یہ دو دنو ں میں یہ معاملہ بھی حل ہو گیا جب پھو پھو اپنے بیٹے نواز کے ساتھ ہمارے گھر آکر اماں سے کہا کہ اب وعدہ پورا کرنے کا وقت آگیا ہے

یہ سن کر اماں نے میری جانب امید بھری نگا ہوں سے دیکھا ان کی نظروں کو میں سمجھ نہیں پا ئی تھی کہ پھو پھو کس وعدے کی بات کر رہی ہیں اماں نے پھو پھو سے کہا کہ تم تھوڑی دیر بیٹھو۔ پھر مجھے اپنے کمرے میں لے آئی اور مجھے اپنے ہاتھوں سے اماں ہم کہا ں جا رہے ہیں بیٹی ہم نہیں صرف تو جا رہی ہے تیری پھو پھو تجھے اپنے گھر لے جائے گی یہ سنتے ہی میں پریشان ہو گئی اماں میں تیرے بغیر کہیں نہیں جاؤں گی بیٹا تو پر یشان نہ ہو۔ وہ تیرا بہت ہی زیادہ خیال رکھے گی تجھے تعلیم دلوائے گی۔

اس کی بیٹی نہیں ہے نا تو تجھے بیٹی بنا کر رکھے گی مگر اماں نے کسی بات نے میرے دل کو تسلی نہ دی میرے منع کر نے کے باوجود بھی مجھے پھو پھو کے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر روانہ کر دیا گیا چند گھنٹوں کی مسافت طے کر نے کے بعد اپنی پرانی زندگی کو ہمیشہ کے لیے خیرآباد کہہ کر پھو پھو کے گھر آ گئی تھی وہ گھر نہیں محل معلوم ہوتا تھا۔ ایسا گھر میں نے صرف ڈراموں اور فلموں میں دیکھا تھا مجھے وہاں آکر اچھا لگنے لگا اگلا دن بھی خاموشی سے طے ہو گیا پھر جیسے ہی شام ہوئی گھر میں گھیما گیمی شروع ہو گئی بہت سی عورتیں اور مرد تیار ہو کر گھر کی دائیں طرف جا رہے تھے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *