گھر سے باہر نکلتے وقت بیوی کو بوسہ دینے سے آپ کو کیا کچھ مل سکتا ہے؟ پاکستانی مسلمانوں جان لو

مرد کی زندگی عورت کے بغیر ادھوری ہوتی ہے شادی کے بعد بیوی اپنا گھر بار بہن بھائیوں سہیلیوں اور بہت سے عزیز رشتوں کو چھوڑ کر ایک پرائے دیس ا

ور پرائے گھر آتی ہے اس کو کوئی وقت چاہیے ہوتا ہے تاکہ وہ نئے ماحول کیساتھ ایڈجیسٹ ہوسکے ۔شادی کے پہلے دوسال بہت اہم ہوتے ہیں جو مرد یہ

سال بڑی سمجھداری سے گزارتے ہیں ان کی شریک حیات ہمیشہ ان کے ساتھ خوش ومطمئن رہتی ہے میاں بیوی گاڑی کے دو ٹائرز ہوتے ہیں اگر کا ایک ٹائر

خراب ہوجائے تو وہ چل نہیں سکتی ۔ اسی طرح زندگی کی گاڑی کو چلانے کیلئے بھی میاں بیوی کا ایک ساتھ چلنا ضروری ہوتا ہے ۔

بیوی کو خوش کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے آپ کچھ بھی کرلیں اپنی بیگم کو کبھی خوش نہیں رکھ سکتے یہ بات بلکل غلط ہے ۔ بیوی کو خوش رکھنا اتنا بھی مشکل نہیں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے

کہ آپ اپنی بیگم کو کیسے خوش رکھ سکتے ہیں یہ بھی بتائیں گے شریعت نے کیوں کہا کہ اگر کسی کام کیلئے گھر سے باہر جارہے ہوں اور گھر میں کوئی غیر نہ ہوتو بیوی

سے ملیں اور ایک دوسرے کا مل کر بوسہ لیکر جائیں ۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی بیوی کیساتھ اچھا سلوک اور سخاوت کا مظاہرہ کریں

حضرت محمدﷺاپنی ازواج کیساتھ برابری کا سلوک کیا اور انہیں بہت زیادہ پیار دینے کیساتھ انہیں ضروریات سے بڑھ کردیا ۔ اپنی بیوی کیساتھ پیار محبت سے پیش آنے سے پتا چلتا ہے کہ آپ کی نظر میں اپنے

ہمسفر کی کتنی اہمیت ہے ۔کتنی عزت کرتے ہیں اس کے بعد بیوی کی تعریف کرنا عورت دنیا کی واحد مخلوق ہوتی ہے جس کی جھوٹی یا سچی

تعریف کرو وہ خوش ہوجاتی ہے ۔یہی اس کی بڑی کمزوری کہلاتی ہے وہ اپنی تعریف سن کر سب کچھ بھول جاتی ہے ۔

شادی کے بعد ایک خوشگوار زندگی گزارنے کا سب سے بڑا فارمولہ اپنی بیوی کی تعریف کرتے رہیں ۔

تعریف کرنے کے بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں ہفتے میں ایک بار اس کے ہاتھ سے بنے کھانے کی تعریف کریں کتنا ہی بدمزا کیوں نہ ہو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگلی دفعہ

وہ اور اچھا کھانا تیار کرے گی ۔ آپﷺ بھی اکثر جب امی عائشہ ؓ کی تعریف کرتے اور اکثر فرمایا کرتے انسانوں میں بہت سے افراد درجہ کمال کو پہنچے

مگر عورتوں میں سے مادود چند افراد کو فضیلت حاصل سکتی ہے جن میں مریمؑ بنت عمران آسیہ ؑ زوجہ فرعون اور حضرت عائشہ ؓ کی

فضیلت تمام عورتوں پر ایسی جیسے تمام اقسام کے کھانوں پر سرید کو فوقیت حاصل ہے

۔ جب بیوی آ پ سے بات کرے تو اس کی بات کو غور سے سنیں ۔ خاندان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کمانے والے فرد کی طرح بیگمات کے کندھوں پر بھی بہت زیادہ ذمہ داریوں کا بوجھ ہوتا ہے

وہ اپنے شوہر میں ایک قابل بھروسہ دوست اور اچھا سننے والا دیکھتی ہے جو اس کے دباؤ کو کم کرے گا۔ جب وہ اس کی بات سنے گا۔اپنی اہلیہ کی بات پر توجہ

دیں کسی بھی طرح کی گفتگو میں خود کو ملوث کریں اس کے بعد اپنی اہلیہ کو تحفظ کا احساس دلائیں ۔لڑکی شادی کے دن سے ہی اپنے شوہر کی ذمہ داری

بن جاتی ہے جب اہلیہ کے تحفظ کی بات ہو تو شوہر کیلئے یہ باور کروانا ضروری ہے کہ وہ اس کیساتھ کس قدرمحسوس ہے ایسا بننے کی کوشش کریں

جب بھی وہ کسی مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہو تو سب سے پہلے آپ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے دل کی بات کہہ سکے ۔اس کے بعد چھوٹے موٹے کام میں بیوی

سے ضرور مشورہ کرلیا کریں۔بعض دفعہ ہوتا ہے کہ مرد سمجھتا ہے عورت ناسمجھ جاہل اور بے وقوف ہوتی ہے اس لیے بیگم سے مشورہ کرنا گوارا نہیں کرتا حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ۔وہ اپنے خاوند کو کبھی غلط مشورہ نہیں دے گی

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.