شریعت کے مطابق قربت۔۔۔؟؟؟ کرنے کے 2 ایسے طریقے جس کو عورت بھی زیادہ پسند کرتی ہے

ان باتوں کو یہاں بیان کرنے کا مقصد بے حیائی بھیلانا نہیں بلکہ لوگوں کو شریعت کے مطابق یاددہانی کروانی ہے ۔ کہ جن چیزوں سے منع کیا گیا

ان سے باز آجائیں 18 سال سے کم عمر لوگ نہ پڑھیں شکریہ ۔میاں بیوی کن کن طریقوں سے قربت کر سکتے ہیں۔

شریعت مطاہرہ کے اندر کن کن طریقوں کو پسند کیاگیا ہے۔اور کن طریقوں کو ناپسند کیا گیاہے؟

میاں بیوی کھڑے ہوکر ، لیٹ کر، بیٹھ کراور عورت کو اپنے اوپر لٹاکر یا عورت کے اوپر لیٹ کر یاگھوڑی بنا کر ۔

کیا ان تمام طریقوں سے شریعت مطاہرہ کے اندر قربت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

قرآن وحدیث میں ایسے طریقے بیان کیے گئے ہیں۔جن دونوں طریقوں سے مرد اپنی بیوی سے قربت کرے گا

۔ تو مرد کو خوب لذت حاصل ہوگی اور عورت کو بھی تسکین حاصل ہوگی ۔

اللہ پاک نے مرد اور عورت کو مکمل طور پر اختیا ر دیا ہے۔ کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل طورپر اپنے

جسم سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ جوغلط طریقہ یعنی دبر میں نہیں کر سکتے۔ یعنی پیچھے کے مقام میں نہیں کرسکتے۔

کیونکہ اس کی ممانعیت آئی ہے۔ ممانعیت سے کیا مطلب ہے؟ اللہ رب العزت نے قوم لوط پر اس لیے عذاب نازل کیا تھا

کیونکہ وہ دبر میں کرتے تھے یعنی پیچھے کے مقام سے قربت کرتے تھے۔ اور عورتوں کے ساتھ

اور مردوں کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ بہرحال شریعت میں اس طریقے سے کرنا کی ممانعیت ہے۔

اگر مرد اپنی بیوی کو گھوڑی بنا لیتا ہے۔ تو وہ اس طریقے سے پیچھے سے آگے کرتا ہے۔ تو یہ جائز ہے۔

آپ اس بات کو آسانی سے سمجھ لیجیے کہ محل کا دروازہ اگلا ہے ۔ راستہ کوئی بھی محل آپ کا وہی ہے۔

اپنی پیشاب والی جگہ یعنی جہاں سے بچہ پیداہو تا ہے۔ چاہے آپ اس کوالٹا لیٹاکر کریں یا سیدھا لیٹا کر کریں۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے

۔ یعنی آپ نے اپنا مقام تبدیل نہیں کرنا ہے۔ آج کی سائنس بھی اقرار کرتی ہے اور ڈاکٹر حضرات بھی اقرا ر کرتے ہیں۔

کہ اگر ان دونوں طریقوں سے قربت کی جائے تو عورت کو خوب لذت ہوگی اور مرد بھی خوب تسکین حاصل کرے گا۔

اب دو طریقوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ پہلے طریقے میں عورت کو نیچے لٹا لیں۔ اور اس کے اوپر خود لیٹ جائیں۔ تو اس میں ایک فائدہ یہ ہے

کہ مرد کو حرکت کرنے کا پورا پورا موقعہ ملے گا۔ جس سے لذت حاصل ہوگی۔ اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ عورت پر تھوڑا سا وزن آئے گا۔

جس کی وجہ سے عورت کی لذت میں اضافہ ہوگا۔ قرآن پا ک میں اللہ پا ک فرماتے ہیں :

یعنی جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو اس میں حمل رہ گیا ۔ دوسرا طریقہ جو قربت کرنے کا ہے جس میں عورت کو بہت زیادہ لذت حاصل ہوتی ہے۔

اس کے بارےمیں حدیث مبارکہ میں ہے۔ یعنی مرد جب فرش(فرش عربی میں عورت کی ش رم گ اہ کو کہتے ہیں) کے چاروں جانب بیٹھ جائے

اور دونوں رانوں کے درمیان مرد بیٹھ جائے ۔ اور بیٹھ کر اس کی دونوں ٹانگوں کو اٹھا لے۔ اور اپنے کندھوں پر رکھ لے

۔ اور مرد اس طریقے سے قربت کرے۔ یعنی مرد جب فرش کے چاروں جانب بیٹھ جائے پھر عورت کو تھوڑی سی مشقت ہوگی۔

یہ حدیث کے الفاظ ہیں تو اس طریقے سے قربت کرسکتے ہیں۔ یہ دو طریقے ہیں

جن کو شریعت نے پسند کیا ہے۔ جس سے مرد وعورت کو دونوں کو سکون حاصل ہوتاہے۔

اور اولاد ہونے اور حمل ٹھہرنے کے زیادہ سے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *