عورت یا مرد؟

سوال_ولد الزنا یعنی زنا سے پیدا ہونے والے بچے کا الحاق کس کے ساتھ ہو گا؟ عورت یا مرد؟
اور کیا یہ بچہ زنا کرنے والے آدمی کی وراثت کا حقدار ہو گا یا نہیں؟

جواب..!
الحمدللہ..!

امام ترمذی نے اپنی کتاب میں باب باندھا ہے کہ،
*ولد الزنا کی میراث باطل ہونے کا بیان*

اور نیچے یہ حدیث درج کی کہ،

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی آزاد عورت یا کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرے تو ( اس سے پیدا ہونے والا ) لڑکا ولد الزنا ہو گا، نہ وہ ( اس زانی کا ) وارث ہو گا۔ نہ زانی ( اس کا ) وارث ہو گا“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن لہیعہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ولد الزنا اپنے باپ کا وارث نہیں ہو گا۔
(سنن ترمذی،حدیث نمبر- 2113)
سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف راوی ہیں،
مگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،
(دیکھیں صحیح، مشکاة-3054) تحقیق الثانی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے،
نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا، نہ وہ بچہ اس مرد کا ۔
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر-2745)
سند میں مثنی بن الصباح ضعیف راوی مگر شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی حسن ہے،

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بچے کا نسب اس کے والد کے مرنے کے بعد اس سے ملایا جائے مثلاً اس کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں ( کہ یہ ہمارے مورث کا بچہ ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ فیصلہ فرمایا: اگر وہ بچہ لونڈی کے پیٹ سے ہو اور وہ لونڈی اس کے والد کی ملکیت رہی ہو جس دن اس مالک نے اس لونڈی سے جماع کیا تھا تو ایسا بچہ یقیناً اپنے والد سے مل جائے گا،
لیکن اس کو اس میراث میں سے حصہ نہ ملے گا جو اسلام کے زمانے سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں اس کے والد کے دوسرے وارثوں نے تقسیم کر لی ہو،
البتہ اگر ایسی میراث ہو جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو تو اس میں سے وہ بھی حصہ پائے گا،
لیکن اگر اس کے والد نے جس سے وہ اب ملایا جاتا ہے، اپنی زندگی میں اس سے انکار کیا ہو یعنی یوں کہا ہو کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو وارثوں کے ملانے سے وہ اب اس کا بچہ نہ ہو گا، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہو جو اس مرد کی ملکیت نہ تھی، یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہو گا، گو اس مرد کے وارث اس بچے کو اس مرد سے ملا دیں،
اور وہ بچہ اس مرد کا وارث بھی نہ ہو گا، ( اس لیے کہ وہ ولدالزنا ہے ) گو کہ اس مرد نے خود اپنی زندگی میں بھی یہ کہا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، تب بھی وہ ولدالزنا ہی ہو گا،
اور عورت کے کنبے والوں کے پاس رہے گا، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی،
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر-2746)حسن صحیح
(سنن دارمی، حدیث نمبر-3154)
(مسند احمد،حدیث نمبر-7042) حسن
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-2265) صحیح حدیث

ابو داؤد کی اگلی حدیث میں یہ الفاظ زیادہ ہیں،
کہ وہ ولد الزنا ہے اور اپنی ماں کے خاندان سے ملے گا چاہے وہ آزاد ہوں یا غلام،۔
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-2266)

*ان تمام احادیث سے یہ بات صاف سمجھ آ رہی ہے کہ زنا سے پیدا ہونے والے بچے کا زانیہ عورت یعنی اسکی ماں کے ساتھ الحاق ہوگا اور زانیہ مرد یعنی اس والد کی وراثت میں بچے کا کوئی حق نہیں ہو گا اور نا ہی والد کا اس بچے پر کوئی حق ہو گا*

*بچے کی پرورش اور الحاق اسکی ماں ساتھ ہو گا،اس کی وضاحت اس حدیث سے بھی ہوتی ہے،
کہ*

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ماعز بن مالک ؓ ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پاک کر دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہے ، واپس جاؤ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کے حضور توبہ کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پاک کر دیں ، نبی ﷺ نے پھر اسی طرح فرمایا حتی کہ جب اس نے چوتھی مرتبہ وہی جملہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ میں کس چیز سے تمہیں پاک کر دوں ؟‘‘ اس نے عرض کیا : زنا (کے گناہ) سے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا اسے جنون ہے ؟‘‘ آپ کو بتایا گیا کہ اسے جنون نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا اس نے شراب پی ہے ؟‘‘ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے اس کے منہ سے شراب کی بُو سونگھی تو اس نے اس سے شراب کی بُو نہ پائی پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے زنا کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے رجم کیا گیا ،
اس کے بعد صحابہ دو یا تین دن (اس معاملہ میں) خاموش رہے پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا :’’ ماعز بن مالک کے بارے میں مغفرت طلب کرو ۔

اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے ایک جماعت کے درمیان تقسیم کر دیا جائے تو وہ ان کے لیے کافی ہو جائے ۔‘‘
پھر قبیلہ غامد کی شاخ ازد سے ایک عورت آئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پاک کر دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہے چلی جاؤ ، اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اللہ کے حضور توبہ کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : آپ مجھے ویسے ہی واپس کرنا چاہتے ہیں ، جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو واپس کر دیا تھا ، میں تو زنا سے حاملہ ہو چکی ہوں ، آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا :’’ تو (حاملہ) ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ وضع حمل تک صبر کر ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، انصار میں سے ایک آدمی نے اس کی کفالت کی ، حتی کہ اس نے بچے کو جنم دیا تو وہ (انصاری) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا ، غامدیہ نے بچے کو جنم دے دیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تب ہم اسے رجم نہیں کریں گے ، اور ہم اس کے چھوٹے سے بچے کو چھوڑ دیں جبکہ اس کی رضاعت کا انتظام کرنے والا بھی کوئی نہیں ؟‘‘ پھر انصار میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! اس کی رضاعت میرے ذمہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے اسے رجم کیا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ تم جاؤ حتی کہ تم بچے کو جنم دو ۔‘‘ جب اس نے بچے کو جنم دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چلی جاؤ اور اسے دودھ چھڑانے کی مدت تک اسے دودھ پلاؤ ۔‘‘ جب اس نے اس کا دودھ چھڑایا تو وہ بچے کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! یہ دیکھیں میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور یہ کھانا کھانے لگا ہے ، آپ ﷺ نے بچہ کسی مسلمان شخص کے حوالے کیا ، پھر اس کے متعلق حکم فرمایا تو اس کے سینے کے برابر گڑھا کھودا گیا ، اور آپ نے لوگوں کو حکم فرمایا تو انہوں نے اسے رجم کیا ۔ خالد بن ولید ؓ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پر مارا جس سے خون کا چھینٹا ان کے چہرے پر پڑا تو انہوں نے اسے بُرا بھلا کہا ، جس پر نبی ﷺ نے فرمایا :’’ خالد ! ٹھہرو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس نے ایسی توبہ کی ہے ، کہ اگر محصول لینے والا ایسی توبہ کرے تو اس کی بھی مغفرت ہو جائے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا اور اس کی نمازِ جنازہ خود پڑھائی اور اسے دفن کر دیا گیا،
(صحیح مسلم حدیث نمبر_1695 )

سعودی مفتی شیخ صالح المنجد فرماتے ہیں،
اس حدیث سے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ زنا کے بچے کی پرورش کرنے کا سب سے زيادہ حقدار اس کی والدہ ہی ہے اس لیے کہ وہ ہی سب سے زیادہ قریب ہے اورپھر اسے اپنے بچے پر بڑی شفقت و پیار کرنے والا بنایا گيا ہے ، یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا ہرایک نے مشاھدہ بھی کیا ہے اوراس کا انکار بھی کوئي نہیں کرسکتا ۔
لیکن یہ سب کچھ اس پر لازم نہیں اگر وہ اسے چھوڑ دیتی ہے توامیر المومنین اورمسلمانوں کے حکمران کوچاہیے کہ وہ اس بچے کے لیے دودھ پلانے اورپرورش کرنے والی کا انتظام کرے ۔

مستقل فتاوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:علماء كرام كے اقوال ميں صحيح قول يہى ہے .
اگر وطئ زنا ميں ہو تو پھر بچہ زانى كى طرف ملحق نہيں كيا جائيگا، اور نہ ہى اس كى طرف نسب ثابت ہوگا، اس بنا پر وہ اس كا وارث بھى نہيں بنےگا ” انتہى
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 20 / 387 ).

اور فتاوى جات ميں يہ بھى درج ہے:
” رہا ولد زنا تو اسے اس كى ماں كى طرف منسوب كيا جائيگا، اور اگر اسكى ماں مسلمان ہو تو اس بچے كا حكم بھى باقى سارے مسلمانوں جيسا ہوگا، اور ماں كے جرم يا اس كى ماں كے ساتھ زنا كرنے والے كى جرم كى بنا پر نہ تو بچے كو عيب ديا جائيگا، اور نہ ہى اس كا مؤاخذہ،
كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
اور كوئى بھى جان كسى دوسرے كا بوجھ نہيں اٹھائيگى ” انتہى
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 22 / 34 )

ایک روایت میں آتا ہے کہ،
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” بچہ بستر والے(یعنی شوہر،مالک) کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ( ناکامی اور محرومی ) ہے
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-1458)
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-1157

امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس کی شرح کرتے ہوۓ لکھتے ہیں :
عاھر زانی کوکہتے ہیں ، زانی کے لیے پتھر ہیں کا معنی یہ ہے کہ : اسے ذلت ورسوائی ملے گی اوربچے میں اس کا کوئی حق نہیں،

*زنا سے بچے کا نسب ثابت نہيں ہوتا*

مندرجہ بالا حدیث ( بچہ بستروالے کا اورزانی کے لیے پتھر ہیں ) کی بنا پر فقھاء کا کہنا ہے کہ ولد زنا کا نسب ثابت نہيں ہوتا ، یعنی زنا سے پیدا شدہ بچے کا نسب ثابت نہیں ہوگا اورنہ ہی اسے زانی سے ملحق کیا جاۓ گا،

حافظ ابن حزم الظاہری رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( زانی کے لیے پتھرہیں ) کے الفاظ کہہ کر زانی سے اولاد کی نفی کردی ہے ، توزانی پر حد ہے اوربچے کاالحاق زانی کے ساتھ نہيں کیا جاۓ گا بلکہ اگر عورت بچہ جنتی ہے تواسے ماں کے ساتھ ہی ملحق کیا جاۓ گا مرد کی طرف نہیں،
(دیکھیں کتاب المفصل فی احکام المراۃ9 /381)

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *