حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ نبی کریمﷺ کے پاس آئی میرے خاوند نے مجھے طلاق دی ہے

حضرت خولہ بنت ثعلبہ قبیلہ بنی عوف بن خزرج سے تعلق رکھتی تھیں۔ان کا نکاح مشہور صحابی حضرت عبادہ بن صامت ؓ کے بھائی اوس بن صامت سے ہوا تھا۔حضرت اوس بن صامت بوڑھے آدمی تھے ۔بڑھاپے کی وجہ سے مزاج میں تیزی آگئی تھی اور طبیعت پر خشونت کا غلبہ ہو گیا تھا۔معمولی بات پر مشتعل ہو جاتے تھے اور قدم قدم پر تشدد پر اتر آتے تھے۔یعنی چڑ چڑا پن جو بڑھاپے کا خاصہ ہے ان پر حاوی ہو گیا تھا۔ایک دفعہ کسی بات پر بیوی سے ناراض ہوئے اور غصے سے مغلوب ہو کر زبان سے یہ لفظ نکال دیا کہ انتِ علی کظھر امی یعنی تم مجھ پر میر ی ماں کی طرح حرام ہو۔

دورجاہلیت میں یہ رسم چلی آرہی تھی کہ جو شخص بیوی سے خفا ہو کر یا کسی اور وجہ سے ایک مرتبہ بیوی سے ظہار کرلیتا یعنی اسے اپنے لئے ماں کی طرح حرام قرار دے لیتا،وہ ہمیشہ کےلئے اس پر حرام ہوجاتی تھی اور ازدواجی تعلقات منقطع ہو جاتے تھے۔اب نہ وہ اس کی بیوی رہتی تھی اور نہ وہ اس کا شوہرپڑھاپےاور کم زوری کا غصہ بھی بوڑھا اور کمزور ہوتا ہے۔ذرا سی دیر میں اتر گیا۔طبیعت میں سکون ہوا،اور خفگی کے آثار دور ہوئے تو بے حد نادم اور انتہائی پریشان ہوئے۔بیوی سے ہم کلام ہونا چاہا تو جواب ملا اگرچہ آپ نے مجھے طلاق نہیں دی ہے تاہم جب تک اللہ اور اس کا رسول کوئی حکم نہیں صادر فرمائیں گے۔میرے آپ کے باہمی علائق حرام ہی ٹھہریں گے اور میں آپ سے کوئی راہ و رسم نہیں رکھوں گی۔اب معاملے کو سلجھانے کی صرف یہی ایک صورت باقی ہے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں اور جو الفاظ زبان سے نکال چکے ہیں ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فیصلے کی استدعاکریں۔انھوں نے بیوی سے کہا مجھے اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتے اور آپکی خدمت میں کچھ عرض کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔میں حضور کے سامنے کس طرح جاؤں اور کیا کہوں۔تم ہی جاؤ ممکن ہے اللہ ہم پر نظر کرم فرمائےاور اپنے رسول پاک کی وساطت سے دوبارہ بحالی تعلقات کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔

چنانچہ خولہ ؓ تیار ہوئیں اور حضر ت عائشہ ؓ کےمکان پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔آپ نے آنے کی وجہ دریافت کی تو بولیں۔ اے اللہ کے رسول آپ کو معلوم ہے اوس جو میرے شوہر ہیں چچازاد بھی ہیں اور مجھے بہت ہی محبوب ہیں۔ان کی تیزی طبع،تندمزاجی اور ضعف وپیری سے بھی آپ اچھی طرح واقف ہیں۔انھوں نے غصے کی حالت میں مجھے ایسی بات کہہ دی ہے جو میں حلفیہ کہتی ہوں کہ طلاق نہیں ہے۔انھوں نے مجھے انتِ علی کظھر امی کہا ہے۔رسول اللہ نے فرمایا اب توتم اس پر حرام ہو رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے یہ لفظ سن کر حضرت خولہ ؓ کو سخت صدمہ ہوا ور بڑی لجاجت اور منت سماجت کے اندز میں رسول اکر مﷺ سے جھگ۔ڑتی رہیں اوراس بات پر اصرار کرتی رہیں کہ ان الفاظ میں طلاق نہیں کہا جاسکتا۔جب دیکھا کہ رسول اللہ ﷺان کے ہم نوا ور موید نہیں ہیں تو نہایت مایوس ہوئیں اور وہیں بیٹھے بیٹھے ہاتھ اٹھا کر اللہ سے ان الفاظ میں دعا مانگی۔اے اللہ میں تری بارگاہ میں حاضر ہو کر تجھ سےاپنی سب سے بڑی تکلیف اور اپنے شوہر اوس کی جدائی کےرنج و احساس کی شکایت کرتی ہوں۔اےحضرت خولہ بنت ثعلبہ قبیلہ بنی عوف بن خزرج سے تعلق رکھتی تھیں۔ان کا نکاح مشہور صحابی حضرت عبادہ بن صامت ؓ کے بھائی اوس بن صامت سے ہوا تھا۔حضرت اوس بن صامت بوڑھے آدمی تھے ۔بڑھاپے کی وجہ سے مزاج میں تیزی آگئی تھی اور طبیعت پر خشونت کا غلبہ ہو گیا تھا۔معمولی بات پر مشتعل ہو جاتے تھے اور قدم قدم پر تشدد پر اتر آتے تھے۔یعنی چڑ چڑا پن جو بڑھاپے کا خاصہ ہے ان پر حاوی ہو گیا تھا۔ایک دفعہ کسی بات پر بیوی سے ناراض ہوئے اور غصے سے مغلوب ہو کر زبان سے یہ لفظ نکال دیا کہ انتِ علی کظھر امی یعنی تم مجھ پر میر ی ماں کی طرح حرام ہو۔

دورجاہلیت میں یہ رسم چلی آرہی تھی کہ جو شخص بیوی سے خفا ہو کر یا کسی اور وجہ سے ایک مرتبہ بیوی سے ظہار کرلیتا یعنی اسے اپنے لئے ماں کی طرح حرام قرار دے لیتا،وہ ہمیشہ کےلئے اس پر حرام ہوجاتی تھی اور ازدواجی تعلقات منقطع ہو جاتے تھے۔اب نہ وہ اس کی بیوی رہتی تھی اور نہ وہ اس کا شوہرپڑھاپےاور کم زوری کا غصہ بھی بوڑھا اور کمزور ہوتا ہے۔ذرا سی دیر میں اتر گیا۔طبیعت میں سکون ہوا،اور خفگی کے آثار دور ہوئے تو بے حد نادم اور انتہائی پریشان ہوئے۔بیوی سے ہم کلام ہونا چاہا تو جواب ملا اگرچہ آپ نے مجھے طلاق نہیں دی ہے تاہم جب تک اللہ اور اس کا رسول کوئی حکم نہیں صادر فرمائیں گے۔میرے آپ کے باہمی علائق حرام ہی ٹھہریں گے اور میں آپ سے کوئی راہ و رسم نہیں رکھوں گی۔اب معاملے کو سلجھانے کی صرف یہی ایک صورت باقی ہے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں اور جو الفاظ زبان سے نکال چکے ہیں ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فیصلے کی استدعاکریں۔انھوں نے بیوی سے کہا مجھے اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتے اور آپکی خدمت میں کچھ عرض کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔میں حضور کے سامنے کس طرح جاؤں اور کیا کہوں۔تم ہی جاؤ ممکن ہے اللہ ہم پر نظر کرم فرمائےاور اپنے رسول پاک کی وساطت سے دوبارہ بحالی تعلقات کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔

چنانچہ خولہ ؓ تیار ہوئیں اور حضر ت عائشہ ؓ کےمکان پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔آپ نے آنے کی وجہ دریافت کی تو بولیں۔ اے اللہ کے رسول آپ کو معلوم ہے اوس جو میرے شوہر ہیں چچازاد بھی ہیں اور مجھے بہت ہی محبوب ہیں۔ان کی تیزی طبع،تندمزاجی اور ضعف وپیری سے بھی آپ اچھی طرح واقف ہیں۔انھوں نے غصے کی حالت میں مجھے ایسی بات کہہ دی ہے جو میں حلفیہ کہتی ہوں کہ طلاق نہیں ہے۔انھوں نے مجھے انتِ علی کظھر امی کہا ہے۔رسول اللہ نے فرمایا اب توتم اس پر حرام ہو رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے یہ لفظ سن کر حضرت خولہ ؓ کو سخت صدمہ ہوا ور بڑی لجاجت اور منت سماجت کے اندز میں رسول اکر مﷺ سے جھگ۔ڑتی رہیں اوراس بات پر اصرار کرتی رہیں کہ ان الفاظ میں طلاق نہیں کہا جاسکتا۔جب دیکھا کہ رسول اللہ ﷺان کے ہم نوا ور موید نہیں ہیں تو نہایت مایوس ہوئیں اور وہیں بیٹھے بیٹھے ہاتھ اٹھا کر اللہ سے ان الفاظ میں دعا مانگی۔اے اللہ میں تری بارگاہ میں حاضر ہو کر تجھ سےاپنی سب سے بڑی تکلیف اور اپنے شوہر اوس کی جدائی کےرنج و احساس کی شکایت کرتی ہوں۔اے اللہ جو چیز ہمارے لئے تیری رحمت کا باعث ہو اسے اپنے نبی ﷺکی زبان مبارک سے ظاہر فرمادے۔میں ایک بے بس اور ناتواں عورت ہوں اور تیرے ہی فضل وکرم کی طلب گار ہوں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا کہنا ہے

کہ خولہ کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گفتگو اور اللہ سے دعا اور الحاح کا یہ منظر اس قدر درد ناک تھا کہ میری اور میرے گھر کے تمام افراد کی ہم دردیاں خولہ کی طرف منتقل ہوگئیں اور اس کی تکلیف سے متاثر ہو کر بے اختیار ہماری آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے۔اس کیفیت پر ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ رسول اللہ ﷺ پر وہی کیفیت طاری ہو گئی جو نزول وحی کے وقت ہوا کرتی تھی۔حضرت عائشہ ؓ نے مسرت کےلہجےمیں خولہ سے کہا خولہ اللہ کی طرف سے ابھی تمہارے معلق فیصلہ ہو جائے گا۔حضرت خولہ ؓ کےلئےیہ وقت پہلے سے بھی زیادہ نازک تھا۔وہ یاس و امید کی ک۔ش مکش میں مبتلا تھیں خطرہ تھا کہ اوس کے یہ الفاظ طلاق کے حکم میں آ جائیں اور تفریق و جدائی کا حکم صادر ہو جائے۔خولہ رض سخت بے تابی کے عالم میں بیٹھی تھیں کہ رسول اکرم ﷺ کی طرف نگاہ اٹھائی ۔آپ کےلبوں پر تبسم کھیل رہا تھادیکھ کر خولہ کی امید بندھی اور جذبات مسرت سے کھڑی ہوگئیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خولہ اللہ نے تمہارا فیصلہ کر دیاہے پھر آپ نے آخرتک یہ آیت پڑھی جو ابھی ابھی بذریعہ وحی آپ ﷺ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھی۔ قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھاالی اخر الایتہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ کے ساتھ اپنے شوہر کے بارے میں جھگ۔ڑ رہی تھی۔چونکہ حضرت خولہ رض نے اپنے شوہر اوس ؓ کے مسئلے پر رسول اللہ ﷺ سے جھگ۔ڑا کیا تھا

اور شوہر کے الفاظ کو طلاق سے تعبیر کرنے سے متعلق رسول اللہ ﷺ سے اظہار اختلاف کیا تھا،اسلئے اس سورہ کا نام بھی مجادلہ اور اس کا آغاز انہی الفاظ سے ہوا۔اس سورہ مبارکہ کی رو سے حضرت خولہ ؓ کا یہ خطرہ دور ہو گیا کہ ان کے شوہر کے الفاظ طلاق کے مفہوم میں آتے ہیں ۔اللہ نے رسول اللہ ﷺ سے ان کا مجادلہ اور جھگ۔ڑا سن کر جو حکم نازل فرمایا اس میں ان الفاظ کو حکم طلاق میں نہیں مانا گیا تھااور چونکہ الفاظ اس لب و لہجہ سے ہٹے ہوئے تھے جس سے ایک شوربالعموم بیوی کو خطاب کرتاہے اسلئے شوہر پر کچھ کفارہ و جرمانہ عائد کیا گیا چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خولہ سے کہاخولہ جاؤ اپنے شوہر سے کہو کہ ایک لونڈی یا غلام آزاد کر یں۔خولہ نے عرض کیا:اے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کسے آزاد کریں،بخدا ان کے پاس نہ کوئی غلام ہے اور نہ ہی لونڈی اور نہ ہی میرے سوا ان کا کوئی خادم۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایااچھا تو مسلسل ساٹھ روزے رکھیں۔خولہ نے عرض کیا: واللہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے ۔وہ بہت ہی کم زور آدمی ہیں ۔دن میں تھوڑی تھوڑٰ ی مقدا میں کئی کئی بار کھاتے ہیں۔

نہ ہی بھوک برداشت کر سکتے ہیں نہ پیاس ضعف جسم کے ساتھ ا ن کی بینائی بھی جواب دے رہی ہے۔رسول خدا ﷺ نے فرمایا : پھر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائیں۔خولہ ؓ نے عرض کیا حضور وہ غریب و نادار آدمی ہیں ان سے تو یہ بھی ممکن نہیں ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھا ان سے کہو کہ ام المنذر بن قیس کو بلا لائیں اور ان سے بارشتر کھجوریں لے کر ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر دیں۔خولہ حضور ﷺ کو سلام کر کے رخصت ہوئیں گھر پہنچیں تو دروازے پر شوہر کو منتظر پایا بے تابی سے پوچھا : کہو خولہ کیا ہوا؟جواب دیا آپ خوش نصیب ہیں رسول اللہ ﷺکا ارشاد ہے کہ ام لامنذر بن قیس کو ساتھ لیتے آؤ اور ان سے باز شتر کھجوریں لے کر ساٹھ مساکین میں صدقہ کرو۔چاینچہ ایسا ہی ہو ااور حضرت اوس ؓ نے اپنی اس قسم یا ظہار کا کفارہ ادا کر دیا۔

Sharing is caring!

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.