پتا ہے ؟ عورت دوسرے مرد کی طرف مائل کیوں ہوتی ہے

رزق عورت کے نصیب سے ہوتا ہے ، جبکہ اولاد مرد کے مقدر سے ، اس لیے رزق کے لیے مرد نہ بدلو اور نہ ہی اولا د کے لیے عورت۔ بیٹی کو تم نہ جہیز دو، نہ وراثت میں حق، مگر من پسند شخص ضرور دو۔ خود کو ذلیل کروانے کادوسرا نام محبت ہے۔ ہمارا اچھا ہونا، کسی کی پرواہ کرنا، رونا دھونا، چیخنا چلانا، دعائیں کرنا

کسی کے لیے اپنی مصروفیات ترک کرنا، کوئی معنی نہیں رکھتا، چا ہے کچھ بھی ہو جائے لوگ بس اپنے حساب سے چلتے ہیں۔ کیافائد ہ ایسی محبت کا ؟

جو انسان کو تو ڑ کر رکھ دے ، جذبات زندگی کے لیے ضروری ہیں، پر پوری زندگی پر ان کو حاوہ کر لینا اپنی ذات کے ساتھ سخت ناانصافی ہے ۔ انسان کو مارتی ہمیشہ محبت ہی ہے۔ نفرت تو ہمیں جینا سکھاتی ہے۔ اکثر اوقات “محبت ” کے دعویدار حقیقت کھلنے پرمحض ایک “اداکار” ثابت ہوتے ہیں۔ کچھ سوچیں درد کا دروازہ کھو ل دیتی ہیں۔ پتا ہے عورت دو سرے مرد کی طرف کیوں مائل ہوتی ہے ؟ عورت دوسرے مرد کی طرف اس وقت ہی مائل ہوتی ہے۔

جب اس سے جڑا مرد اسے محبت اور عزت دینا چھوڑ دیتا ہے۔ کیونکہ عورت اپنے مرد سے محبت اور عزت کے علاوہ کچھ نہیں چاہتی۔ عورت کو چاند نہیں ہونا چاہیے جسے ہرکوئی شوق سے

محبت سے ، چاہت سے دیکھتا رہے میرے خیال سے عورت کو سورج ہونا چاہیے جسے کوئی بھی عام شخص نہ دیکھ سکے۔ وہ جسے دیکھنے کے لیے خاص قوت درکار ہو۔ وہ جس کی روشنی کی حدت سے آنکھیں چندھیانے لگیں۔

وہ جسے دیکھنے کے لیے آنکھ اٹھائیں تو وہ ہزار بار جھپکیں ۔ وہ بو لے تو اس کے لہجے کی تپش برداشت نہ ہو۔ یاد رکھنا! کسی لڑکی کے جذبات روند کر اسے تعلق ختم کرنے کی دھمکی دے کر ایک مرد سمجھتا ہے کہ میں بہت طاقتور ہوں اور یہ میرے ہر جائز اور ناجائز فعل کو سہنے والی لڑکی کمزور ہے ۔ افسو س ہے آپ کی سوچ پر۔ جب لڑکی کے جذبات کوٹھیس پہنچتی ہے نہ تو وہ سر پربیٹھے مرد کو اپنے قدمو ں میں لا پٹختی ہے ۔ اتنی بے رحم ہوجاتی ہے

کہ نہ تمہیں اپنی نفرت کے قابل سمجھتی ہے ۔ نہ ہی محبت کے ۔ عورت کو عزت کی نگا ہ سے دیکھو اس کی عزت کو نگاہوں سے نہیں۔ جس کتاب میں عورت کےپردے کا حکم ہے، اسی کتاب میں مرد کے نظریں نیچی کرنے کا حکم ہے۔ ہر وہ لڑکی جو اپنے ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہونے پر فخر محسوس کرتی ہے یاد رہے مکھیوں کی کثرت گندگی کی دلیل ہے ۔ حسن حیاء کے پردوں میں چھپا ہے ، لوگ اسے بکھر ے بالوں میں تلا ش کرتے ہیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.