شادی کی پہلی رات دولہا دلہن کیا کریں؟

مسنون نکاح کے بعد شوہر کو چاہئے کہ اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ اچھے سے پیش آئے ، اس کا دکھ درد اور غم کم کرنے اور اس کا دل بہلانے کے لئے اس سے لطف و سرور کی باتیں کرے ، دل لگی اور ہنسانے والے کلمات کہے، اسے تحفہ تحائف دے کر اس سے اپنی محبت اور لگاؤ کا اظہار کرے، کھانے پینے کی عمدہ چیزیں پیش کریے، دودھ ہو تو بہت بہتر ہے، شوہر پہلے خود کچھ پیئے یا کھائے پھر دلہن کو پلائے ، دلہن جب فارغ ہوجائے تو وہ برتن دولہے کو پینے کے لئے دے دے ، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے.

اسماء بنت يزيد بن سكن بيان كرتى ہيں:

ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ليے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كو دلہن بنايا اور پھر آپ كے پاس آئى اور آپ كو بلايا تو آپ آ كر اس كے ساتھ بيٹھ گئے اور ايك بڑا پيالہ لايا گيا جس ميں دودھ تھا آپ نے اسے نوش فرمايا اور پھر آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا كو ديا تو اس نے سر جھكا ليا اور شرماگئيں.

اسماء رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں: تو ميں نے اسے ڈانٹا اور كہا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ہاتھ سے پكڑ لو وہ بيان كرتى ہيں تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے لے كر تھوڑا سا پيا پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كو فرمايا: اپنے ساتھى كو دو ( يعنى آپ اپنے آپ كو مراد لے رہے تھے : کہ مجھے بھی پلاؤ ) ..

[ اسے امام احمد نے روايت كيا ہے اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح كہا ہے.]

اس کے بعد جب دلہن دولہے سے کچھ مانوس (لگاؤ ) ہوجائے تو دلہن کو اپنے قریب کرکے اہنے ہاتھ کو دلہن کی ہیشانی پر رکھ کر یہ دعا پڑھے. : ” اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ ” .

جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کسی عورت سے شادی کرو ، یا کوئ غلام خریدو ، (یا کوئی جانور خرودو) تو اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بسم اللہ کہتے ہوئے برکت کی دعا کرو ، اور یہ دعا پڑھو : ” اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ ” اے اللہ ميں اس كى بھلائى طلب كرتا ہوں اور جس پر تو نے اسے پيدا كيا ہے اس كى بھلائى كا سوال كرتا ہوں، اور تيرى پناہ مانگتا ہوں اس كے شر سے، اور اس چيز كے شر سے جس پر تو نے اسے پيدا كيا ہے .

[ دیکھئے: سنن ابی داؤد :2160 سنن ابن ماجہ:1839 علامہ البانی نے حسن کہا ہے]

اس کے بعد سلف صالحین سے منقول عمل کو اختیار کرتے ہوئے دو رکعت نماز پڑھے ، اس کا طریقہ یہ ہے : شوہر آگے بڑھ کر امامت کرے جبکہ دلہن دولہے کے پیچھے نماز ادا کرے. اس سے دلہا دلہن کے دل میں اگر کوئ نفرت ، کراہیت یا ناپسندیگی ہو گی تو ان شاء اللہ دور ہوجائے گی.

شقيق رحمہ اللہ بيان كرتے ہيں كہ: ابو حريز نامى ايك شخص آيا اور ( عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما ) كو عرض كرنے لگا: ميں نے ايك نوجوان كنوارى لڑكى سے شادى كى ہے، اور مجھے خطرہ ہے كہ كہيں وہ مجھے ناپسند نہ كرنے لگے تو عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہ نے كہا:

” الفت و محبت تو اللہ كى جانب سے ہے، اور ناپسنديدگى شيطان كى جانب سے، وہ يہ چاہتا ہے كہ اللہ نے جو تمہارے ليے حلال كيا ہے اسے تمہارے ليے ناپسند بنا دے، لہذا جب تم اپنى بيوى كے پاس جاؤ تو اسے كہو كے وہ تمہارے پيچھے دو ركعت نماز ادا كرے “.

[ دیکھئے : المصنف لابن ابی شیبة:7/50، آداب الزفاف للالبانی :96 آپ نے اس اثر کو صحیح کہا ہے ]

اب اگر دونوں میں سے کوئی ہمبستر ہونے کی خواہش رکھتا ہو تو یاد رہے کہ دلہن شب زفاف (سہاگ رات) کو لے کر دوسروں سے بے بنیاد باتیں سن کر بہت ڈری ہوئی ہوتی ہے، حالانکہ اس کی حقیقت ذہنی اپجھ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی ہے ، ہر دلہن کو اپنے ذہن سے بے بنیاد افواہ کو نکال کر اپنے دل میں موجود ڈر کو نکال دینا چاہئے . یہ سب شیطانی وسوسے ہیں ، کیونکہ شادی سے انسان بہت ساری برائیوں سے بچ جاتا ہے، اسی لئے شیطان شادی شدہ جوڑے سے بہت جلن رکھتا ہے، یہی وہ زنا کو لوگوں کے لئے آسان اور پر لطف بنا کر پیش کرتا ہے ، اور نکاح کے ذریعہ حلال ہونے کے بعد ایک دوسرے سے تسکین حاصل کرنے کو مشکل بنا کر دلہن کے دل میں ڈر پیدا کرتا یے ، لہذا دلہن کو شیطانی وسوسے کا شکار ہونے کے بجائے اللہ کے بنائے ہوئے بہترین نظام پر راضی ہونا چاہئے .

یاد رہے اگر دلہن کی یہ ذہن بن جائے تو اس کے لئے واقعی سہاگ رات سے بہتر کوئی اور رات نہیں ہوسکتی.

دولہے کو چاہئے کہ دلہن کا دل جیتنے کی پوری کوشش کرے، ہنسی، مزاق کچھ اس انداز سے کرے کہ وہ مسکرانے پر مجبور ہوجائے، دلہن کے حسن و جمال اور اس میں موجود خوبیوں کی کھل کر تعریف کرے، جب وہ دلہے سے پوری طرح متاثر ہوجائے اور خوش بھی ہو تو چاہے مجامعت (ہمبستری) کرے یا ویسے ہی ہنسی مزاق میں رات گذار دے .

ہاں اگر ہمبستر ہونے کا اردہ ہوتو دلہن کو مقدمات جماع (ہم بستر ہونے سے پہلے والے امور جیسے بوس وکنار اور بغل گیر ہونا وغیرہ) کے ذریعہ ذہنی طور پر تیار کرلے، اس طرح وہ معمولی تکلیف کے احساس کے ساتھ زندگی کی سب سے بہترین خوشی محسوس کرے گی. … لہذا بوس وکنار بے حد ضروری ہے. یہی سنت بھی ہے. عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بھی بوسہ دیتے. [صحیح مسلم:1106] روزے کی حالت میں جب بوسہ دیتے تو جماع کےبوقت بدرجہ اولی بوس و کنار ضروری ہے.

جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” تم نے کسی کنواری سے شادی کیوں نہیں کی ، تاکہ تو اس سے کھیلتا وہ تجھ سے کھیلتی ، تو اسے ہنساتا وہ تجھے ہنساتی” [ دیکھئے: صحیح بخاری: 5367، صحیح مسلم : 715 ]

بوس کنار سے محبت بڑھتی ہے ، اس میں بخیلی نہیں کرنی چاہئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے فارغ ہونے کے بعد مسجد جارہے ہوتے تو بھی بوسہ دیتے. [ سنن ابی داود : 179 علامہ البانی نے صحیح کہا ہے ]

جماع کے وقت دلہا دلہن یا میاں بیوی یہ دعا پڑھیں : “بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا “. شروع كرتا ہوں اللہ كے نام سے، اے اللہ ہميں شيطان سے دور ركھ، اور جو ہميں اولاد عطا كرے اسے بھى شيطان سے دور ركھ .

اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب ان دونوں کو بچہ ہیدا ہوگا تو وہ شیطان کے ضرر اور نقصان سے محفوظ ہوگا. [دیکھئے: صحیح بخاری : 3271 ]

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *