”حیض والی عورت سے قربت میں کہاں تک لذت لے سکتے ہیں“

حیض والی عورت سے حالت حيض میں قربت کرنے سے رکنا واجب اور ضروری ہے ، اس لیے کہ اس سے قربت کی بنا پرحيض کے خ ون مین شدت اورتیزي پیدا ہوتی ہے ،

کیونکہ رحم کی رگیں دباؤ کا شکاراوررکیں ہوئي ہوتی ہیں ان کا پھٹنا آسان اورجلدی خراب ہوجاتی ہیں ۔

اوراسی طرح اندرونی پردے میں خراشیں پیدا ہونا بھی آسان ہوتی ہيں جس کی بنا پر جلن اورخارش کے پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیںجو رحم کے اندر بھی سوجن اورجلن پیدا کرنے کا با‏عث بنتے ہیں۔

، اوراسی طرح مرد کے عضو تناسل میں بھی جلن اورخارش پیدا ہوتی ہے جس کا سبب عورت سے اثناء قربت خراش وغیرہ کا پیدا ہونا ہے ۔

اگر کسی آدمی حالت حیض کے اندر بیوی کے ساتھ جمع کرلیا ہے اس صورت کے اندر شریعت کیا کہتی ہے کہ توبہ کریں یا کچھ صدقہ کریں ۔

آپ سب جانتے ہیں حالت حیض کے اندر بیوی کے قریب جانا گناہ ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں وہ گندگی ہے اس حالت میں ان کے قریب مت جائیں ۔

حالت حیض کے اندر نماز جیسی عبادت معاف ہے جتنے مرضی بیمارہیں حتیٰ کہ اتنے بیمار ہیں بستر سے اُٹھ نہیں سکتےتو اس وقت میں آپکو نماز معاف نہیں ۔

عورت کے پیٹ میں بچہ آدھا بچہ باہر اور آدھا اندر ہے نماز کا ٹائم ہےتو اس وقت بھی عورت کو نماز معاف ہے ۔ جیسا کہ کسی صورت میں نماز معاف نہیں ہے

بالغ ہونے کے بعد اگر نہیں پڑھو گے تو گنہگار ہوگے اور اس کا فدیہ دینا پڑے گا جب نماز جیسی عبادت نہیں کرسکتے تو پھر بیوی سے قربت کرنا بہت دور کی بات ہے

اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ حالت حیض میں قربت کرلیتا ہے اس صورت اگر تو وہ قربت دونوں میاں بیوی کی رضا مندی سے ہوئی ہے تو بیوی بھی راضی تھی

شوہر بھی راضی تھا اس صورت کے اندر شریعت کہتی ہے دونوں کو توبہ استغفار کرنی چاہیے اگر انہوں حیض کے شروع میں قربت کرلی تو ان کو شریعت کہتی ہے

کہ ایک دینار اللہ کے راہ صدقہ کرنا پڑے گا۔ اگر حالت حیض کے آخر میں قربت کی ہے تو نصف دینار کرنا بہتر ہے توبہ استغفار کرنی ہے اگر ساتھ

وہ آدھا دینا دے دیگا اس صورت کے اندر اس کی غلطی کا ازالہ ہوجائیگا۔ سچے دل کے ساتھ توبہ واستغفار کرنی چاہیے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.