آج کل کی عورتیں خود مردوں کو اپنی طرف بلاتی ہیں

اس معاشرے کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ جن بلند کردار خواتین نے اسلامی شریعت کے عین مطابق بہترین پردہ کرتے ہوئے اپنی ساری عمر گزار دی وہ نیک خواتین بھی موجودہ دور میں اپنی جوان بیٹیوں سے شرعی پردہ نہ کروا سکیں بلکہ بہت سی تو بخوشی اپنی اولاد کی بےپردہ نوعیت پر رضامند بھی ہیں۔ ان باکس میسج میں سینکڑوں خواتین نے اصرار کیا کہ پردہ کے موضوع پر احکام شریعت واضح دلائل سے بیان کرتی ایک جامع تحریر قلمبند کی جائے

اور بے شمارنے رازداری کی گارنٹی لے کر بتایا کہ ہم پردہ دار اور پوش خاندان سے ہیں مگر ہماری جوان بیٹیاں کردار پاک ہونے کے باوجود بھی محض دکھاوے کا پردہ ہی کرتی ہیں۔ وہ نماز پڑھتی ہیں مگر لباس ایسا پہنتی ہیں کہ شریعت کے تقاضوں پر بلکل پورانہیں اترتا اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں یہی ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ ہم ان کے ایسے لباس پر راضی اور خوش ہیں۔ یہ تو تھیں اس معاشرے کی کچھ ماؤں کے تاثرات، شریعت کے تقاضوں کو میں لاعلم کیا بیان کروں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس بارے میں واضح احکامات سبھی کے سامنے ظاہر ہیں

کہ جو عورت شرعی پردہ نہیں کرتی اللہ اس کی کوئی عبادت قبول نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کے جسم کا جو حصہ بھی نامحرم کی آنکھوں تک پہنچا (یعنی نامحرم نے عورت کی بے پردگی کی وجہ سے دیکھا) وہ حصہ جہنم کی تپتی ہوئی آگ میں جائے گا۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا اللہ تعالی اس کو عورت کی کوئی دعا قبول نہیں کرتا جو بالغ ہونے کے باوجود بھی پردہ نہیں کرتی۔( بخاری، متفق علیہ)

اس معاملے میں تنگ یا کسے ہوئے جالی دار یا جسم کے خدوخال ظاہر کرنے والے کپڑے پہننے والی خواتین کے پاس جوابی دلائل یہیں تک محدود ہیں کہ ہمیں زمانے کے ساتھ چلنا ہے یا وہ مرد کی نظروں کو نشانہ بنا کر اپنی بے پردگی کے معاملے کو سلجھاناشروع کر دیں گی۔

اسلام یہ نہیں کہتا کہ مرد نہ دیکھیں تو عورت کو نیم عریاں لباس پہننے کا حق حاصل ہو گیا اسلام نے عورت سے اس کی زندگی کا حساب لینا ہے اور مرد سے اس کی زندگی کا۔ لہذا مردوں کی نظریں گندی ہوں یا پاک عورت کو پردہ اسلامی شریعت کے مطابق ہی کرنا چاہیے۔ یہی اس کی پاکدامنی ایمان، اور شریعت اسلامی کا تقاضا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بھی یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات ان کی سکھائی ہوئی شریعت کا نفاذ کیا جائے ایک مسلمان عورت خواہ وی نمازی ہو نیک سیرت ہو یا دیندار ہو،

اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا فرض ہے نہ کہ جسم کے خدوخال ظاہری نمائش میں سامنے رکھنے ہیں۔ سیدھا راستہ یہی ہے کہ انسان حیلے بہانے ڈھونڈے بغیر اپنی اصلاح کی طرف آئے اور سیدھا راستہ اپنائے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہے “اور جو انسان سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور راستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور قیامت کے دن جہنم میں داخل کردیں گے اور وہ بری جگہ ہے” (سورۃ النساء آیت 115) جن خواتین پر میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات عالیشان واضح ہوجائیں ان کے لباس میں آئندہ سے کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور آئے گی باقی جنہیں اس تحریر میں موجود فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عکس کیے گئے شرعی احکامات پر بھی اعتراض ہے انہیں بحث کرنے کی کھلی اجازت ہے مگر عورت کے پردے سے متعلق نظام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہترین ہیں اس میں کوئی شک نہیں۔

Sharing & caring!

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.