تین لوگوں پر اعتبار کرو؟ دل دُکھانے پر بھی جو؟

لوگ پیار کے لئے ہوتے ہیں اور چیزیں استعمال کے لئے بات تب بگڑتی ہے جب چیزوں سے پیار کیا جائے اور لوگوں کو استعمال کیا جائے۔کسی انسان سے بار بار اس بات کا تذکرہ نہ کریں جس کا جواب دیتے ہوئے اس کے جذبات مجروح ہوں۔ زندگی بدلنے کے لئے لڑنا پڑتا ہے اور آسان کرنے کے لئے سمجھنا پڑتا ہے وقت آپ کا ہے ، چاہو تو سونا بنا لو اور چاہو تو سونے میں گزار دو۔لوگ کہتے ہیں پیسہ رکھو برے وقت میں کام آئے گا میں کہتا ہوں اللہ پر یقین رکھو برا وقت ہی نہیں آئے گا۔ہر اذیت کی ایک معینہ مدت ہوتی ہے جس کے گزرجانے کے بعد نہ تو درد کی شدت پہلے جیسی رہتی ہے اور نہ اسے سہنے والا انسان پہلے جیسا رہتا ہے۔آج کسی کی بیٹی آپ کے لئے ٹائم پاس ہے کل آپ کی بیٹی کسی کے لئے تائم پاس ہوگی۔ دل دکھانے پر بھی جو شخص آپ سے شکایت تک نہ کر سکے اس شخص سے زیادہ محبت آپ کو کوئی نہیں کرسکتا۔جتنی ذہانت بات کہنے کے لئے درکار ہوتی ہے

، اس سے دوگنی ذہانت دوسرے شخص کی بات سننے اور سمجھنے کے لئے درکار ہوتی ہے۔غرور اور غفلت کا ن ش ہ ش ر ا ب سے بھی زیادہ ہوتا ہے جو اس ن ش ے میں مبتلا ہوجاتا ہے وہ جلدی ہوش میں نہیں آتا۔ ان لوگوں پر اعتبار کرو جو تمہاری تین باتیں بھانپ سکیں: تمہاری ہنسی میں پوشیدہ درد، تمہارے غصے میں پوشیدہ پیار، تمہاری خاموشی میں پوشیدہ وجہ۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے یہ روایت کیا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں، پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھلاؤں گا،

اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا، اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں، تم مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا، اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں کہ مجھے نفع پہنچا سکو، اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتے اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت سے کوئی چیز کم نہیں کر سکتے۔ اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے، اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے جمع کر رہا ہوں، پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزا دوں گا، پس جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جسے خیر کے سوا کوئی چیز (مثلاً آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *