نا مرد کی یہ نشانی ہے وہ اپنی بیوی کے ساتھ رات کو شیخ سعدی نے نا مرد کی سب سے بڑی نشانی بتادی

جب ہر طرف تو نیاز مندی کے تیر چلائے گا تو امید ہے کہ اچانک کوئی نہ کوئی شکار ضرور کرلے گا ۔ اہل دل کے طلب گا کو ایک لمحہ بھی غافل ہو کر بیٹھنا ح رام ہے ۔ دنیا میں انسان اپنے آپ کو جتنا بھی مٹی سے بچالے لیکن قبر میں جا کر اس کو کھوپڑی اور آنکھوں میں مٹی بھر جائے گی۔ انسانی جسم فانی ہے۔ جب اس کی روح انسانی جسم سے الگ ہوگی اعمال صالحہ کے سوا کچھ ساتھ نہ لے جائے گی۔
انسان کو اپنا حساب کتا ب صاف رکھنا چاہیے تاکہ کسی قسم کے محاسبے اور سزا کی فکر نہ ہو۔ کیونکہ جس نے ظلم کیا ہی نہیں اگر سارا جہان بھی کوتوال بن جائے تو اس کو کیا غم۔ خوشحال لوگوں کو چاہیے کہ تنگدست او رکمزوروں کا بھی خیال رکھیں اور ان ک دکھ درد میں شریک ہوں، اپنی ع یش پ رس تی میں پڑ کر ان کو بھلا ہی دینا انسانیت تو کیا حیوانیت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ن امرد کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو دوسروں کے سامنے لائے۔ جو مرد اپنی بیوی کو دوسروں کے سامنے لا کے فخر محسوس کرے وہ مرد
نہیں ، ن امرد ہے۔ ہرکوئی اپنی مصیبت کو ہی بڑا سمجھتا ہے حالانکہ دوسرے کی بڑی مصیبت کے سامنے اپنی مصیبت کو تو بھلا ہی دینا چاہیے۔ میرے نزدیک چور،ڈاکو، پرہیز گاری کا لباس والے گنہگار سے بہتر ہے ۔اپنے سے بہتر حالت والوں کو دیکھ کر اللہ سے شکوہ کناں ہونے کے بجائے اپنے سے کمتر کو دیکھ کر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ہدایت و گمراہی اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ کسی کو ہدایت نہ دے تو اچھے بھلے عقل مند بتوں کے سامنے سجدہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اور ان کو ا س بات کی سمجھ نہیں آتی کہ یہ بے جان بت معبود بننے کے قابل نہیں۔ ویسے تو م وت کا کسی کو علم نہیں لیکن اتنا تو ہونا چاہیے جوانی گذر جائے تو رنگ رلیاں چھوڑ کر توبہ میں مصروف ہوجانا چاہیے۔ کیونکہ م وت کا بلاوا کسی وقت بھی آسکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.