وہ شادی شدہ جوڑے جو سیدھے جنت میں جائیں گے

پہلا بنیادی رشتہ خاوند اور بیوی ہے اور آخری رشتہ بھی خاوند اور بیوی ہے لیکن اس وقت ہمارے معاشرے میں خاوند سے زیادہ اس کے ماں باپ حق جتلاتے ہیں خاوند سے زیادہ اس کی بہنیں حق جتلاتی ہیں خاوند سے زیادہ اس کے رشتہ دار حق جتلاتے ہیں اور جھوٹی سچی شکایتیں لگا کر خاوند کو بیوی سے متنفر کرتے ہیں اور کہیں بیوی کو خاوند سے متنفر کرتے ہیں آپس میں لڑائی پیدا کر کے پھر خوش ہوتے ہیں

آپﷺ سے پوچھا گیا یارسول اللہ ﷺ آپ کو سب سے زیادہ کس سے پیار ہے وہ چونک گئے کہنے لگے کہ میں پوچھ رہا ہوں کہ لوگوں میں آپ کو کس سے زیادہ پیار ہے۔تو آپ کہتے ابو بکر سے تو آپ نے پھر فرمایا کہ ابو ھا کہ مجھے عائشہ کے باپ سے زیادہ پیار ہے ۔مجھے عائشہ کے باپ سے سب سے زیادہ پیار ہے یہ آپ کو میسج دیا ہے کہ گھر کی زندگی کیسے ہوتی ہے کوئی عشق نہیں چڑھا ہوا تھا

اما ں عائشہ چھوٹی عمر کی تھیں انہیں آٹا گوند کر دیتے تھے جب ان کو آٹا گوندنا آگیا تو پھر چھوڑ دیا ان کو سامنے بٹھا کر لقمے بنا کر کھلاتے تھے۔پھر حضرت عائشہ ؓ کوئی گوشت کا ٹکڑا اٹھا کر دوچار جگہ سے نوچ کر رکھ دیتی تھیں

تو اللہ کے نبی ﷺ اسی کو اٹھاتے اور حضرت عائشہ ؓ کو دکھاتے اور وہیں سے تناول فرماتے جہاں سے حضرت عائشہ ؓ نے تناول فرمایا ہوتا تھا اور اسی طرح حضرت عائشہ ؓ ایک گلاس اٹھاتیں اور اس میں سے پانی پیتیں تو حضورﷺ وہی گلاس اُٹھاتے اور وہیں سے پانی پیتے جہاں حضرت عائشہ ؓ کے ہونٹ لگے ہوتے۔

یہ سب آپ کو سکھانے کے لئے ہے یہ سب میرے نبی کی معاشرت ہے یہ میرے نبی کی زندگی ہے گھر میں جھاڑو دیتے اپنے کپڑے خود دھوتے بکھری چیزوں کو خود جمع کرتے گھر والوں کے ساتھ مل کر برتن دھوتے صفائی کرتے ،یہ میرے نبی کی خوبصورت زندگی ہے ہم بھلا چکے ہیں بیوی کے لئے خاوند کو سب سے بڑا حق دار ٹھہرایا۔بعض بیویاں ایسی بھی نادانی کرتی ہیں۔

کہ شادی کے بعد بھی اپنے ماں باپ کی آنکھ کو دیکھ کر چلتی ہیں شادی کے بعد سب سے بڑا حق خاوند کا ہے ۔ماں باپ پیچھے چلے جاتے ہیں بہن بھائی پیچھے چلے جاتے ہیں لیکن یہ نادانیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں کہ شادی کے بعد بھی ماں باپ اپنی بچے کو اپنے قابو میں رکھنے کی ترکیبیں سوچتے ہیں تو وہ بھی اپنی بچی کا گھر برباد کردیتے ہیں میرے نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ عورت پر سب سے پہلے کس کا حق ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے خاوند کا ۔

ایک خاتون آئی کہ میری شادی ہو رہی ہے میرے اوپر میرے خاوند کا کیا حق ہے توآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تیرے خاوند کے جسم پر پیپ سے بھرے زخم ہو اور تو اپنی زبان سے چاٹ چاٹ کر زخم صاف کرے تو تونےاپنے خاوند کا حق ادا نہیں کیا خاوند کو سمجھایا کہ سب سے بہترین مسلمان وہ ہے جو بیوی سے اچھا سلوک کرتا ہے

اور میرا سب سے اچھا سلوک ہے اپنی بیویوں کے ساتھ یعنی قاب قوسین او ادنی آپ کا مقام ہے اللہ پاک کا دیدار اپنی آنکھوں سے کیا ہوا ہے اور آپ ہمیں معاشرت سکھارہے ہیں کہ ایک جہاد کے سفر سے واپس آرہے ہیں اماں عائشہ ساتھ ہیں آپ نے صحابہ سے کہا کہ آگے۔

چلے جاؤ وہ سارے آگے چلے گئے جب سارے نظروں سے غائب ہوگئے تو آپﷺ نے فرمایا عائشہ دوڑ لگاؤ گی میرے ساتھ عائشہ نے نہیں کہا میرےنبی نے کہا آج کل کا کوئی علامہ بھی یہ نہیں کرے گا فرمایا جی ہاں لگاؤں گی تو حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں آگے نکل گئی اللہ کے نبی ﷺ پیچھےر ہ گئے

چاہے آپ جان بوجھ کر ہی دل جوئی کے لئے آہستہ ہوئے ہوں کچھ سال کزر گئے پھر جہاد کے سفر سے واپسی ہورہی ہے تو پھر آپ ﷺ نے صحابہ سے یہی کہا کہ آگے چلے جاؤ پھروہ غائب ہوگئے تو پھر آپﷺ نے فرمایا عائشہ دوڑ لگاؤ گی۔ عائشہ نے کہا جی اللہ کے نبی تو دوڑ لگائی تو اس دفعہ اللہ کے نبی ﷺ جیت گئے تو پھر حضورﷺ نے فرمایا عائشہ تیرا میر ا حساب برابر ۔

ہمارے ہاں عیب سمجھاجاتا ہے کہ اگر کوئی مرد کہے کہ مجھے بیوی سے سب سے زیادہ پیار ہے تو کہتے ہیں کہ تیری ماں کہاں گئی تو بھئی ماں کا اور رشتہ ہے بیوی کا اور رشتہ ہے ماں باپ کی وجہ سے بیوی پر زیادتی نہیں کرنی چاہئے اور بیوی کی وجہ سے ماں باپ پر زیادتی نہیں کرنی چاہئے۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.