آج شام اس نے چائے میں نیند کی گولیاں ملا کر گھر والوں کو سلادیا تھا آدھی رات کو ارمان آیا اور اس کے کپڑے اتارے اور اپنی حوس کا نشانہ بنا دیا

امی مجھے سردرد ہورہا ہے مناہل کی آنکھوں میں آنسو تھے ماں نے مناہل کو دیکھا کہنے لگیں مناہل تم تھوڑا سا بھی درد برداشت نہیں کرسکتی۔ ہمت کیا کرو تھوڑی سی سردرد سے بھی رونے لگ جاتی ہے۔ امی مجھ سے درد برداشت نہیں ہوتا ماں نے ٹیبلٹ دی کچھ دیر آرام ملا۔ مناہل ناولز پڑھنے والی لڑکی ڈرامے دیکھ کر وہ پسندیدہ ہیرو یا ہیروئن کے مسکرانے مسکراتی ان کے اداس ہونے سے اداسی ہوتی اتنی معصو م سی تھی ایک ڈرامے میں ہیرو مر گیا اور رو رو کر اپنا برا حال کرلیا۔

وہ بالکل کسی گلا ب کی طرح تھی۔ کالج جاتی تھی۔ لیکن پڑھائی چھوڑ دی پڑھنے کا شوق نہیں تھا اتنا چار بہنیں تھیں دو بھائی تھے بابا مناہل کے بیرون ملک تھے گھر کے کام کرتے ہوئے تو جان نکل جاتی تھی۔ پھر بھی مناہل کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی تھی ہاں اگر کبھی جھاڑو لگا دیا تو بس چار دن بیڈ سے ہلنا ہی نہیں تھکن ہوجاتی ۔ ایک دن مناہل بازار میں شاپنگ کرنے گئی وہاں ایک خوبصورت لڑکا جو مناہل کی طرف بار بار دیکھ رہا تھا مناہل شرمندہ ہورہی تھی ۔ وہ لڑکا ایک نظر سے مناہل کو دیکھے جارہا تھا۔ دیکھنے میں خوبصورت تھا ۔ کار کے پاس کھڑا تھا۔

کچھ دن گزرے مناہل پھر کسی کام سے بازار گئی اس بار پھر وہی لڑکا مناہل کے سامنے آیا ۔ مناہل کو غصہ آیا لیکن اس لڑکے نے ایک کاغذ کاٹکڑا بہت چالاکی سے مناہل کے ہاتھ میں تھما دیا۔ مناہل کا دل چاہا اس لڑکے کے منہ پر تھپڑ ماروں لیکن خاموش رہی وہ کاغذ پھینکا نہیں گھر آئی دیکھا تواس کاغذ پر لکھا تھا آپ مجھے بہت پیاری لگتی ہیں۔ قسم خدا کی جب سے آپ کو دیکھا میرا سکون دل کا قرار سب کھو چکا ہے۔ میری زندگی آپ کے ہاں کی منتظر ہے میرا نمبر ہے

یہ آپ سے محبت کرتا ہوں مجھے واٹس ایپ میسیج کرنا پلیز پلیز مناہل حیران تھی ۔کچھ دن گزرے دل میں خیال آیا کیونہ اس لڑکے سے بات کروں ا س کا نمبر سیو کیا دیکھا اس کی واٹس ایپ یہ اس کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ بہت پیار لگ رہا تھا۔ تصویر میں مناہل نے نہ جانے کتنی بار ہیلو لکھا اور کتنی بار مٹایا ہر بار ہمت ٹوٹ جاتی میسیج سینڈ کرتے ہوئے ہیلو لکھ کر سینڈ کردیا۔ جواب آیا کون؟ دو دن تک جوا ب نہ دیا۔ پھرہیلو لکھا تو واٹس ایپ کال آگئی تو مناہل نے کہا کہ چیٹ میں بات کریں۔

وہ بات کرنے کے انداز سے سمجھ گیا یہ وہی ہے جسے میں نے نمبر دیا تھا۔ میرا دل کہتا تھا آپ ضرور مجھے سمجھیں گی مناہل حیران تھی اس نے کیسے پہچان لیا مجھے اس لڑکے نے اپنی تصویر بھیجی ۔ میرا نام ارمان ہے میں یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں۔ مناہل نے پوچھاآپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے ؟ ارمان نے کہاآ پ کو اپنا بنانا چاہتاہوں۔ مناہل نے ہر لڑکا یہی ڈائیلاگ مارتا ہے۔ ارمان مسکر ا کر کہنے لگا میں سب جیسا نہیں ہوں۔ میں سب سے الگ ہوں۔

ارمان نے کہا مناہل آپ کوئی بات نہیں کرنا چاہتی میں آپ کو کبھی کچھ غلط نہیں بولوں گا آپ جیسا کہو گی ویسا کروں گی۔ مناہل نے کہا ٹھیک ہے پھر مجھے دوبارہ میسیج نہ کرنا ارمان نے کہا مناہل اس کے سوا جو کہوکروں گا تم سے دور اب نہیں رہ سکوں گا۔ مناہل کو یقین نہیں ہورہا تھا ارمان اتنا پیار کیسے کرسکتا ہے۔ ارمان نے کہا مناہل بات سنیں ایک منٹ ویڈیو کال کریں آپ اپنا چہرہ نہ دکھائیں بس مجھے دیکھیں مناہل نے پہلے انکار کیا لیکن ارمان کی ضد پر ویڈیو کال کی ارمان نے ایک بلیڈ لیا اپنے بازو پر مناہل کا نام لکھا ۔ مناہل دیکھو اتنی محبت کرتا ہوں ۔

محبت کا سفر شروع ہوگیا ارمان اور مناہل میں باتوں کا سفر شروع ہوا۔ کبھی مناہل ارمان کے میسج کا لیٹ ریپلائی کرتی تو ارمان کا ل پر کال کرتا ۔ دن رات محبت بھر ی باتیں وعدے قسمیں خواب سب کچھ کیا جارہاتھا۔ ایک دن ارمان نے کہا مناہل اپنی تصویر بھیجو مناہل نے بنائی نہیں کوئی تصویر ارمان نے کہا بنا ؤ تصویر مجھے تم کو دیکھنا ہے ۔ مناہل نے تصویر بنائی ارمان دیکھ کر تعریفیں کرنے لگا مناہل بہت خو ش تھی ارمان نے کہا مناہل ایک تصویر سامنے سے بال ہٹا کر بناؤ مناہل نے میں ایسی تصویر نہیں بناؤں گی۔ ارمان مسکراتے ہوئے کہنے لگا ارے مناہل تم میری ہونے والی بیوی ہو کیوں ڈرتی ہو۔ مناہل نے کہا شادی کے بعد کرنا نہیں روکو ں گی۔ لیکن اب نہیں۔

ایک دن بارش ہورہی تھی ۔ ارمان نے ضد کی میں آنے لگا ہوں دروازہ کھولو مناہل نے بہت منع کیا لیکن ارمان آگیا بارش تیز تھی ۔ مناہل نے دروازہ کھولا اندھیرے میں سب سو رہے تھے بجلی چمک رہی تھی۔ ارمان نے مناہل کا ہاتھ پکڑا اورکہا مناہل میری جان دیکھو نا آج موسم کتنا پیارا دل کررہا تم کوسینے سے لگا لوں۔ مناہل کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

وہ مناہل کے جسم کو ح وس کا نشانہ بناتا رہ مناہل ڈر گئی اور دھکا دیا کہا چلے جاؤ ۔ وہ خوش تھا منزل کی پہلی سیڑھی پار کرچکا تھا۔ وہ ساری رات نہ سو سکی۔ صبح ارمان نے کا ل کی مناہل کیا بات ہے جان اداس سی ہو مناہل نے کہا کچھ نہیں ارمان مسکراتے ہوئے کہنےلگا، مناہل بس اب میری پڑھائی پوری ہوتے ہی ہم شادی کرلیں گے۔ مناہل نے کہا مجھے تم نے چھوا ہے اب ڈر لگتا ہے تم بچھڑنے سے بہت خواب ہیں تمہارے ساتھ میرے اپنی ماں سے بات کروں گی۔

ایک رات ارمان نے کہامناہل اپنی ہاٹ سی تصویر تو بھیجو۔ ارمان نے مجبور کیا پیار کے واسطے وعدوں کی زنجریں مناہل نہ چاہتے ہوئے اس نے اپنی بر ہ نہ تصویرں کلک کرکے ارمان کو بھیج دیں۔ ارمان نے واٹس ایپ میں گروپ میں تصویر اپ لوڈ کی۔ مناہل کی بر ہ نہ فوٹو سب دوستوں نے کہا ارے واہ ارمان کمال کردیا۔ ارمان نے کہا مناہل ملنا ہے تم سے مناہل نے منع کیا لیکن ارمان ہمیشہ کی طرح بضد رہا مناہل کونیند کی گولیاں دی اور کہاکھانے میں ملا دینا اور پھر مناہل کے ج س م کے ساتھ خوب کھیلا ، مناہل کو داغدار کیا اور چلا گیا۔ارمان کو کال کرتی تو ارمان اگنور کرنے لگا مناہل پوچھتی ارمان میری جان آپ بات اب بہت کم کرتے ہیں۔ ارمان بات ٹالتے ہوئے کہا مناہل میں امتحان کی تیاری کررہا ہوں۔ مناہل گھر کے کاموں میں مصروف ہوتا ہوں۔ بات پھر سے ٹال دی۔ مناہل کو بہت تیز بخار تھا مناہل ارمان کو یاد کرکے رونے لگی۔

ارمان کو کال کرتی رہی اگنور کرتارہا۔ مناہل کا دل پھٹ رہاتھا۔ پھرایک مناہل نے کہا ارمان اپنی امی کو بھیجو شادی کی بات کرنے لیے ارمان نے کہا مناہل سچ بتادوں تو میرے نہ تو امی مان رہی اب نہ ابو۔ میں ان کے خلاف نہیں جاسکتا مناہل مجھے معاف کرد مناہل نے چیختے ہوئے کہا ارمان ایسی باتیں کیوں کررہے ہو۔ ارمان بس محبت پوری ہوگئی تمہاری کھیل لیا میرے جسم سے کھیل لیا میری روح سے کھیل لیا میرے جذبات سے ارمان کردیا۔ مجھے پاکدامن سے ایک ہیرا منڈی کی وحشیہ کی طرح کیا فرق رہ گیا۔ مجھ میں اور طوائف میں وہ پیسوں کےلیے بستر پر آجاتی اور مجھے تم نے محبت کے نام پر استعمال کرلیا ارمان نے کہا مناہل تم تھی ہی بدکردار لڑکی ۔

مجھ پر الزام لگا رہی ہو۔ خود کو دیکھو پہلے شریف اور عزت دار لڑکیاں محبت کیا کرتیں ہیں۔ تم تو اپنے ماں کو دھوکہ دے کر مجھ سے ملتی رہی ۔ تو مجھ سے کیسے وفا کرو گی۔ مناہل نے چیختےارمان بس کرو اللہ کے سامنے بھی پیش ہوگے ۔ کہاں ہیں تمہارے وعدے ۔ کتنی آسانی سے مجھے بدکردار کہہ دیا ناں۔ ارمان نے فون کاٹ دیا۔ نمبر بدل لیا۔ مناہل جب باپ کی آنکھوں میں دیکھتی ہے تو وہ تڑپ اٹھتی ہے۔ مناہل نے اللہ کے سامنے نماز میں سجدہ کرتی ہے۔ تو چیخ چیخ کر روتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.