آج یو نیورسٹی میں میرا پہلا دن تھا

آج یو نیورسٹی میں میرا پہلا دن تھا آج سے پہلے وہ کبھی یو نیورسٹی نہیں آئی تھی وہ ایک ذہین سٹوڈنٹ تھی میٹرک میں بھی نوے فیصد نمبر لیے تھے پر خاندان بھر کی مخالفت نے اسے کسی بڑے کالج میں ایڈ مشن کی اجازت نہ دی اس لیے اس نے گورنمنٹ کالج سے ایف ایس سی کیا تھا اور وہاں بھی بورڈ میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی تھی اور شاید اس وجہ سے ہی اس میں خود اعتما د ی آ گئی تھی اور اب اس کا لر شپ سے اسے اس بڑی یو نیورسٹی میں آرام سے ایڈ مشن مل گیا تھا آج سے پہلے اس نے صرف نام سنا تھا اور آج یہاں ہو نا بلکل ایسا تھا جیسے خواب کا پورا ہو جا نا پر اس نے خواب بھی کہاں دیکھا تھا۔ اور اتنے بڑے خو اب دیکھنے کی اجازت ہی کب تھی اسے وہ جا نتی تھی۔

اپنے ماں باپ کے حالات اور خاندان میں ان کی پوزیشن کتنا سنا پڑا تھا اس کے ما ما پا پا کو لیکن بہر حال اسے اس گھٹن زدہ ما حول سے آزادی مل گئی تھی جہاں ہر غلطی ہر مسئلے کی قصور وار وہ ہی ہو تی تھی آج تک جن تعلیمی اداروں میں اس نے پڑ ھا تھا وہاں سٹوڈنٹس درمیانے طبقے کے تھے لیکن اس یونیورسٹی کی بات الگ تھی کراچی کی سب سے بڑی یونیورسٹی شانزے کے لیے بھی یہاں ایڈ مشن لینا نہ ممکن ہو تا اگر اسے سکو لر شپ نہ ملتی پورے خاندان کی مخالفت کے کر اس کے با با جانی نے یہاں تعلیم حاصل کرنے کے فیصلے میں یس کا ساتھ دیا اور اسے بھی ان کا ماں رکھنا تھا پر یہاں آکر کافی حد تک اسے اپنے فیصلے پچھتا وا ہوا تھا۔

کیو نکہ یہاں شاید ہی کوئی سٹوڈنٹ ہو جو کسی نارمل فیملی سے تعلق رکھتا ہو۔ یہاں کی لڑکیوں میں اور اس میں زمین آسمان کا فرق تھا وہ سب جینس شرٹ پہنے، سلوز لیس شرٹس پہنے بال کھو لے اور فل میک اپ میں تھی جب کہ شانزے سادہ سے لباس میں اونچی سی پونی با ند ھے بغیر میک اپ کے کسی اور ہی دنیا کی مخلوق لگ رہی تھی لیکن اس کے باوجود اس کے چہرے پہ کہیں کوئی گھبراہٹ نہیں تھی آنکھوں میں ڈھیر سر ے خواب سجائے وہ اتنی ہی با اعتماد تھی جتنی یہاں تعلیم حاصل کرنے والی کوئی اور لڑکی ہو سکتی تھی۔

اس کا یو نیورسٹی آنے کا مقصد صرف تعلیم کا حصول تھا نہ کہ ان لوگوں کو دیکھنا اور ا ن جیسا بنا شانزے اپنے ڈیپا رٹمنٹ میں پہنچ گئی تھی اس سے پہلے کہ وہ کسی سے اپنی کلاس پو چھتی تبھی ایک لڑ کا اس کے پاس آیا۔ ایکسیوز می ۔۔ آپ نیو سٹوڈنٹ ہیں؟؟ بی ایس سی فرسٹ سمیسٹر؟؟شانزے نے اثبات میں سر ہلا یا میرا نام پر و فیسر مستنصر ہے میرے ساتھ آجائیں۔ جی پر آپ ۔۔ شانزے اپنی بات مکمل کرتی اس سے پہلے ہی وہ اس کی بات سنے بغیر آ گے بڑھ گیا تھا پروفیسر مستنصر کی عمر زدہ نہ تھی چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد صاف رنگت سلیقے سے بنے بال وائٹ شرٹ اور بلو جینز پہنے آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا ہاتھ میں ایپل کے نیو ماڈل کا مو بئل لیے وہ اس کے آگے چلتے عمر یا ہو لیے کہیں سے بھی پروفیسر نہیں لگ رہے تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.