قربت کرنے کے بعد کتنی دیر تک جسم گرم رہتا ہے اور غسل کتنی دیر بعد کرنا چاہیے

آج کا سوال یہ ہے کہ قربت کرنے کے بعد کتنی دیر کے بعد غسل کرنا چاہیے ۔جب میاں بیوی قربت کرتے ہیں تو اس کے بعد غسل کاتعین بلکل مقرر نہیں کیاگیا ہے بہتر یہ ہے کہ نماز فجر سے پہلے غسل کرلینا چاہیےتاکہ آپ نماز فجر ادا کرسکیں۔ اس دوران اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ مرد کی ش۔رم گاہ سے مادہ پوری طرح نکل جائے ۔ اگر نہانے کے بعد مرد کی ش۔۔رم گاہ سے کوئی مادہ کا اخراج ہوتا ہے اس صورت میں دوبارہ غسل کرنا واجب ہے ۔ جب تسلی ہوجائے اب کسی قسم کا مادہ نہیں نکلے گا تو تب غسل کرلینا چاہیے ۔

قربت کے بعد بہتر یہ ہوگا کہ آپ پ،یشاب کرلیں کیونکہ اس سے ہر قسم کا مادہ باہر خارج ہوجاتا ہے جب میاں بیوی دونوں کیلئے ضروری قربت کے بعد کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد پ،یشاب کرنے تک ہر قسم کا مادہ بیوی کی ش۔رم گاہ میں حمل ٹھہرنے کیلئے مرد نے اندرخارج کیا اسکے اندر جانے کا وقفہ دیا جائے۔ اضافی مادہ ہوگا وہ بیوی کی ش۔رم گا۔ہ سے خارج ہوجائے گا۔پ۔یشاب کرلیں تاکہ مرد کی ش۔رم۔گ اہ سے بھی وہ گاڑھا مادہ خارج ہوجائے جو بچا کچا ہے اور بیوی کی ش۔رم گاہ سے بھی خارج ہوجائے تاکہ غسل کے بعد ایسا کوئی معاملہ نہ ہو اگر ایسا معاملہ ہوگیا تو دوبارہ غسل کرنا ضروری ہے ۔ مقررہ کوئی وقت نہیں کوشش یہ کریں کہ نماز فجر سے پہلے غسل کرلیں۔

اسلام میں قربت کے بعد غسل کرنے کی مختلف روایات ہیں ۔قربت کے بعد غسل کرنے میں اتنی تاخیر اور سستی کرنا کہ نماز قضا ہوجائے یہ ناجائز ہے، شوہر بیوی دونوں کے لیے یہی حکم ہے، قربت کی حالت میں بچے کو دودھ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ جب تک انسان قربت کر کے غسل نہیں کریگا وہ حرام ک۔اری میں رہیں گا وہ ل۔عنت میں رہیگا اور شیط۔ان اس پہ حاوی ہو جائیں گے کوئی بات نہیں ہے۔ جس سے پہلے اٹھ جائیں اور کرلے اس میں کافی

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.