زنا ایک قرض ہے بہت ہی سبق آموز واقعہ

ایک عورت آنسو بہاتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت عمر ؓ کے پاس آئی اس کا حال یہ تھا کہ کپڑے میلے کچیلے تھے۔ ننگے پاؤں تھی پیشانی اور رخساروں سے خ۔ون بہہ رہا تھا اس عورت کے پیچھے طویل وقامت آدمی کھڑا تھا ۔اس آدمی نے زور دار آواز میں کہا او زان۔یہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا مسئلہ کیا ہے۔

اس آدمی نے کہا اے امیر المؤمنین اس عورت کو سنگ۔سار کریں میں نے اس سے شادی کی تھی۔ اس نے چھ مہینے میں ہی بچہ جن۔م دیا ہے حضرت عمر ؓ نے اس عورت کو سنگ۔سار کرنے کا حکم دے دیا ۔ حضرت علی ؓ نے جو حضرت عمر ؓ کے برابر بیٹھے تھے۔ کہا کہ امیر المؤمنین یہ عورت زن۔ا سے بری ہے ۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ توجب ہم اسے رزاد کی مدت نکالیں گے جو کہ تیس مہینوں میں سے چوبیس مہینے ہیں لہذا چھ ماہ ہی باقی رہ جائیں گے لہذا ایک عورت چھ ماہ میں بچہ جن سکتی ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ کا چہرہ دمک اُٹھا اور فرمایا اگر آج علی ؓ نہ ہوتے تو عمر ؓ ہ۔لاک ہوجاتا ۔ایک بادشاہ کے سامنے کسی عالم نے مسئلہ بیان کیا کہ زان۔ی کے عمل کا قرض اس کی اولاد یا اہل خانہ میں سے کسی نہ کسی کو چکانہ پڑتا

اس بادشاہ نے سوچا کہ میں اس کا تجربہ کرتا ہوں اس کی بیٹی حسن وجمال میں بے مثال تھی۔ اس نے شہزادی کو بلا کر کہا کہ عام سادہ کپڑے پہن کر اکیلی بازار میں جاؤ اپنے چہرے کو کھلا رکھو اور لوگ تمہارے ساتھ جو معاملہ کریں وہ ہوبہوآکر مجھے بتاؤشہزادی نے بازار کا چکر لگا یا مگر جو غیر محرم شخص اسکی طرف دیکھتا شرم وحیاء سے نگاہیں جھکا لیتا کسی مرد نے شہزادی کے حسن وجمال کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔سارے شہر کا چکر لگا کر جب شہزادی اپنے محل میں داخل ہوئی راہداری میں کسی ملازم نے محل کی خادمہ سمجھ کر روکا گلے لگایا بوسہ لیا اور بھاگ گیا شہزادی نے بادشاہ کو سارا قصہ سنایا اور بادشاہ رو پڑا ۔کہنے لگا میں نے ساری زندگی غیر محرم سے اپنی نگاہ کی حفاظت کی ہے ایک مرتبہ غلطی کر بیٹھا اور غیر محرم لڑکی کو گلے لگا کر اس کا بوسہ لیا تھا۔

میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جومیں نے اپنے ہاتھوں سے کیا ۔ سچ ہے کہ زن۔ا ایک قص۔اص والا عمل ہے۔ جس کا بدلہ ادا ہوکر ہی رہتا ہے ۔ہمیں اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ ہماری کوتاہی کا بدلہ ہماری اولادیں چکاتی پھریں۔ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی گھر کی عورتیں پاک دامن بن کر رہیں اسے چاہیے کہ وہ غیر م۔حرم عورتوں سے بے تم۔اع ہوجائے اسی طرح جو عورتیں چاہتی ہیں ہمارا خاوند نیک کاری کی زندگی گزاریں بے حیائی والے کاموں کو چھوڑدیں انہیں چاہیے کہ وہ غیر مرد کی طرف نظراُٹھانا بھی چھوڑ دیں۔کسی نے اگر یہ کب۔یرہ گ۔ناہ کیا ہے تو ت۔وبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ سچی توبہ کے ذریعے اپنے رب کو منائیں تاکہ دنیا میں قص۔اص سے بچ جائیں اور آخرت میں ذل۔ت ورسوائی سے چھٹکارا پائیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.