وہ رفتہ رفتہ میرے قریب آنے لگی اسے میری مجھے اس کی عادت ہونے لگی۔۔۔

پھیری والا کباڑیہ ڈائری کے صفحات پر کھانے کی اشیاء رکھ کر دے رہا تھا ۔اتفاق تھا کہ میں وہاں پاس کھڑا تھا ۔ اچانک میری نظر اس صفحے پر پڑی ۔ چند الفاظ پڑھ پایا تھا ملاحظہ : وہ ڈ۔ر۔ی سہ۔م۔ی سی میری زندگی میں آئی تھی۔ کہتی تھی شوہر بہت ظ۔الم ہوتے ہیں ۔پہلی رات میں اس کی یہ بات سن کر بہت ہنس۔ا وہ میری طر ف دیکھ کر حیران ہورہی ت۔ھی۔ بو لی آپ پاگل ہیں

اتنا کیوں ہنس رہے ہیں ۔ کہنے لگی میری بات سن لیں اباجی کےکہنے پر میں نے آپ سے بیاہ تو کرلیا ہے لیکن اگر آپ نے مجھے مارا یا گالی دی تو میں واپس اپنے گھر چلی جاؤں گی۔ ہماری ارینج میرج تھی مجھ پر ایک راز کھلاتھا۔ کہ اسکی بڑی بہن کو اس کے شوہر نے اتنا م۔اراتھا کہ اس کی ایک ٹان۔گ ٹوٹ گئی ۔ اب وہ ن۔ف۔س۔ی۔ات۔ی مریضہ ہے ۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑکر ب۔وسہ کیا اور کہا میری گ۔لاب کو پھ۔ول بھ۔لا کی۔وں م۔اروں گا۔اور اس کا سر اپنی گود میں رکھا اور پیار سے سمجھانے لگا۔ایساکچھ نہیں ہوگا تم پریشان نہ ہو۔ جلد ہماری شادی ہوگئی تھی ۔ شادی کے کچھ دن گزرے ۔مجھے کہنے لگی لڈو لے کرآئیں نا میں کام سے تھکا ہارا آتا مجھے کھانادیتی۔میں تھکا ہونے کے باوجود اس کو انکار نہ کر پاتا۔

وہ رفتہ رفتہ میرے قریب آنے لگی۔ اسے میری عادت ہونے لگی۔ عادت نہیں محبت کہیں تو اچھا ہوگا۔ میں حیران تھا پہلے وہ بھوک برداشت نہیں کرتی میرے آنے تک کھانا نہیں کھاتی تھی۔ مجھے کہتی اپنے ہاتھ سے کھاناکھلاؤ ،باتیں کرتے کرتے سوجاتی مجھے زندگی کا احساس ہونے لگاتھازندگی کیا اتنی حسین بھی ہو سکتی ہے۔ ایک بار میں کسی بات سے ناراض تھا اسے ڈانٹا بھی تھا میری طرف غصے سے دیکھنے کے بعد کمرے میں چلی گئی ۔ لیکن میں بھی غ۔صے میں تھا اس لیے اسے رونے دیا پورادن گزر گیا وہ بھوکی ہے میں اس کو کھانا نہ کھلایا آخر میں بھی تو ن۔ارا۔ض تھا کچھ دیر بعد برتن کچن میں رکھ کر آگئی اور میری گو دمیں سر رکھ کر لیٹ گئی۔

رات کے بارہ بج گئے بارش زوروں کی تھی اس کا معصوم چہرے بھ۔وکی سوگئی تھی اس کے چہرے کی جانب دیکھ کر میں سارا غ۔صہ بھول گیا۔ وہ سارا دن کام کرتی ، میرا ہر حکم مانتی ایک چھوٹی غلطی سے آج میری وجہ سے بھوکی سوگئی۔ بارش بہت تیز تھی میں کچن میں گیا اس کے لیے آلو والے چاول بنائے بہت شوق سے کھاتی تھی ۔ وہ معصوم سا چہر ہ آہستہ سے آنکھیں کھولیں میری طرف دیکھنے لگی اور مسکرائی! میں نے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں بھر لیا اور مسکرایا ، کانوں کو پک۔ڑکر مع۔اف۔ی مانگنے لگا۔ اس کی مدہ۔وش آنکھوں سے ہی۔رے کی مان۔ندکی آنس۔و بہنے لگے میرے سین۔ے سے ل۔گ گئ۔ آپ کوپتہ ہے

کہ میں کتنا روئ۔ی ہوں۔ میری ج۔ان ن۔ک۔ل رہی تھی کہ آپ سے ن۔ارا۔ض۔ ہوں صبح سے کھانا نہیں کھایا اور محبت سے میرے ہاتھ کو زور سے پک۔ڑے صلح کرتے ہوئے مجھ سے جھ۔گ۔ڑ رہی تھی ۔ میں کچن میں گیا اس کے لیے آلو والے پلاؤ لے آیا۔ اور مسکرانےلگی کب بنائے ۔ میں نے اپنے ہاتھ سے کھلاتے ہوئے بولا پاگ۔ل! میں کوئی دشمن تھوڑی ہوں تمہارا۔کبھی کچھ کہہ دوں تو ن۔ارا۔ض نہ ہوا کرو۔ سب کچھ تمہاری ب۔ھ۔لائی کےلیے تو کرتاہوں وہ س۔وری کرنے لگی اس کی ہر ادا میری زندگی تھی ۔ یہ ایک صفحہ جس پر کسی نے اپنی زندگی کو محفوظ کیا تھا لیکن میرے سمجھ میں نہیں آرہاتھا۔ آخر یہ چ۔اہت بھر ی داستاں کسی ک۔باڑیے کے پاس کیسے بھلا پیدل چلتے ہوئے سوچ رہاتھا ۔ کسی کے زندگی کے حسین پل کسی کےلیے بس کاغذ کا ٹ۔ک۔ڑا ہے کاش میں اس ڈائری کو مکمل پڑھ سکتا ۔لیکن کچھ قصے ادھورے اچھے لگتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.