ایک نامرد نے لڑکی سے شادی کرلی

ایک نامرد شخص نے دھوکہ سے کسی عورت سے شادی کرلی جب عورت پر یہ انکشاف ہوا تو اس عورت نے امام علی ؑ کے سامنے مقدمہ پیش کیا امام علی ؑ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کر دی اور اسکا مہر اس نامرد شخص سے وصول کیا اور اس عورت کو دے دیا اور پھر دھوکہ دینے کے جرم میں اس نامرد کو تازیانے لگائے اور فرمانے لگے اللہ کے نزدیک بدترین گناہ یہ ہے کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو دھوکہ دے میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا کہ بدترین اعمال میں سے بدترین عمل کسی انسان کو دھوکہ دینا ہے اور اے شخص یاد رکھنا دھوکہ کی بنیاد پر کوئی بھی رشتہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔

میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ دو گناہ ایسے ہیں جس کی معافی ممکن نہیں ان میں سے ایک دھوکہ اور دوسرا جھوٹ ہے یادرکھنا کسی انسان کو دھوکہ دینے والا انسان اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی دنیا و آخرت تباہ کر کے دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے۔کیا ایسے شخص کے لیے شادی کرنا جائز ہے جو مباشرت کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اوراس کے بارے میں اسے شادی پہلے اپنی اس کمزروی کے بارے میں معلوم ہو۔کیا نامرد کا شادی کرنا جائز ہے؟اگر کسی ایسی عورت سے مناسب رشتہ مل جائے کہ جس کو جماع کی طرف رغبت نہ ہو یا ہو تو بہت کم یعنی نہ ہونے کے درجہ میں ہو اور وہ شخص اپنی نامردی کی حالت کو بالکل صحیح صحیح اس عورت پر ظاہر کرادے اور اس کے باوجود وہ عورت خوش دلی سے نکاح کرنے پر راضی ہوجائے تو نکاح کرلینے کی گنجائش ہے۔

تاہم اِس طرح سے نکاح ہوجائے تب بھی بہتر یہ ہے کہ اپنے علاج ومعالجہ سے وہ شخص غافل نہ رہے اور دعائے خصوصی کا بھی اہتمام رکھا کرے اور اپنی حالتِ نامردی کو چھپاکر نکاح کرلیا تو نکاح تو ہوجائے گا مگر عورت پر ظلم وجور کا مرتکب ہوگا اور کوئی گناہ عورت سے سرزد خدا نہ خواستہ ہوگیا تو اس میں اس شخص کی بھی شرکت ہوجائے گی، یعنی دنیا میں وبال اور آخرت میں عذاب کا مستحق وہ بھی ہوگا۔شوہر کے نامرد ہونے کی بناء پر عورت کو بذریعہ عدالت فسخ نکاح کا اختیا رہے ، بشرطیکہ عورت کو نکاح سے قبل شوہر کے نامردہونے کا علم نہ ہو ، نکاح کے بعد ایک مرتبہ بھی شوہر نے وطی نہ کی ہو ،نامرد ہونے کے علم کے بعد عورت نے شوہر کے نکا ح میں رہنے

ایک نامرد شخص نے دھوکہ سے کسی عورت سے شادی کرلی جب عورت  پر یہ انکشاف ہوا تو اس عورت نے امام علی ؑ کے سامنے مقدمہ پیش کیا امام علی ؑ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کر دی اور اسکا مہر اس نامرد شخص سے وصول کیا اور اس عورت کو دے دیا اور پھر دھوکہ دینے کے جرم میں اس نامرد کو تازیانے لگائے اور فرمانے لگے اللہ کے نزدیک بدترین گناہ یہ ہے کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو دھوکہ دے میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا کہ بدترین اعمال میں سے بدترین عمل کسی انسان کو دھوکہ دینا ہے اور اے شخص یاد رکھنا دھوکہ کی بنیاد پر کوئی بھی رشتہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔

میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ دو گناہ ایسے ہیں جس کی معافی ممکن نہیں ان میں سے ایک دھوکہ اور دوسرا جھوٹ ہے یادرکھنا کسی انسان کو دھوکہ دینے والا انسان اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی دنیا و آخرت تباہ کر کے دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے۔کیا ایسے شخص کے لیے شادی کرنا جائز ہے جو مباشرت کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اوراس کے بارے میں اسے شادی پہلے اپنی اس کمزروی کے بارے میں معلوم ہو۔کیا نامرد کا شادی کرنا جائز ہے؟اگر کسی ایسی عورت سے مناسب رشتہ مل جائے کہ جس کو جماع کی طرف رغبت نہ ہو یا ہو تو بہت کم یعنی نہ ہونے کے درجہ میں ہو اور وہ شخص اپنی نامردی کی حالت کو بالکل صحیح صحیح اس عورت پر ظاہر کرادے اور اس کے باوجود وہ عورت خوش دلی سے نکاح کرنے پر راضی ہوجائے تو نکاح کرلینے کی گنجائش ہے۔

تاہم اِس طرح سے نکاح ہوجائے تب بھی بہتر یہ ہے کہ اپنے علاج ومعالجہ سے وہ شخص غافل نہ رہے اور دعائے خصوصی کا بھی اہتمام رکھا کرے اور اپنی حالتِ نامردی کو چھپاکر نکاح کرلیا تو نکاح تو ہوجائے گا مگر عورت پر ظلم وجور کا مرتکب ہوگا اور کوئی گناہ عورت سے سرزد خدا نہ خواستہ ہوگیا تو اس میں اس شخص کی بھی شرکت ہوجائے گی، یعنی دنیا میں وبال اور آخرت میں عذاب کا مستحق وہ بھی ہوگا۔شوہر کے نامرد ہونے کی بناء پر عورت کو بذریعہ عدالت فسخ نکاح کا اختیا رہے ، بشرطیکہ عورت کو نکاح سے قبل شوہر کے نامردہونے کا علم نہ ہو ، نکاح کے بعد ایک مرتبہ بھی شوہر نے وطی نہ کی ہو ،نامرد ہونے کے علم کے بعد عورت نے شوہر کے نکا ح میں رہنے۔

ایک مرتبہ بھی زبانی طور پر رضا مندی ظاہر نہ کی ہو۔ شوہر کے نامرد ہونے کی بناء پر خاتون کی طرف سے عدالت کے پاس معاملہ پہنچے تو عدالت شوہر کو علاج معالجہ کے لئے ایک سال کی مہلت دے گی،اس ایک سال میں تندرست نہ ہوا تو قاضی عورت کو فسخ ﴿نکاح نکل جانے﴾ کا اختیار دے گا ،اگر وہ اسی مجلس میں تفریق کو اختیار کرے تو عدالت نکاح فسخ کردے گی۔صورت مسؤلہ میں نامرد ہونے کی بنیاد پرفسخ نکاح کے مذکورہ بالا شرعی تقاضے ﴿ علاج کے لئے سال بھر کی مہلت وغیرہ﴾ پورے نہیں کئے گئے ا س لئے اس فیصلہ کی بنیاد پر عورت کے لئے دوسری جگہ شادی کرنا جائز نہیں ۔لہذا کوشش کی جائے کہ شوہر سے طلاق حاصل کی جائے اگرچہ زبر دستی ہو، اگر یہ نہ ہوسکے تو عورت اپنا مہر وغیرہ واپس کرکے شوہر کو خلع پر راضی کرے۔

اگر اس پر بھی راضی نہ ہو تو عدالت میں شوہر کےخلاف دوبارہ تنسیخ نکاح کا دعوی دائر کیاجائے ،پھر عدالت شوہر کوعدالت میں حاضر کرے اگر وہ نامرد ہونے کا اقرار کرے تو اس کو علاج کے لئے ایک سال کی مہلت دے ،اگر سال بھر میں ایک مرتبہ بھی جماع پر قادر نہ ہو سکا توایک سال پورا ہونے کےبعد عورت کے دوبارہ درخواست کرنے پر قاضی تحقیق کرے اگر شوہر نے عدم قدرت کا اقرار کرلیا تو عورت کو قاضی اختیار دیدے عورت اگر اسی مجلس میں علیحدگی کا مطالبہ کرے تو شوہر سے طلاق دلائی جائےگی اگر وہ طلاق سے انکار کرے تو قاضی خود تفریق کردے ، ، اسکے بعد عدت گذار کر دوسری جگہ شادی کی جاسکتی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.