ہوشیار ہوجاؤ

امام علی ؓ اپنے چاہنے والوں کو درس اخلاق دے ہی رہے تھے اتنے میں آپ فرمانے لگے اے لوگو ! ایک انسان سے خبر دار رہنا تو لوگوں نے پوچھا یا علی کس انسان سے امام علی ؓ نے فرمایا وہ انسان جو تمہاری غیر موجودگی میں تمہاری غیبت کرتا ہو یادرکھنا جو انسا ن تمہاری غیر موجودگی میں تمہاری غیبت کرتا ہے

تو اس انسان سے دور رہنا تمہیں ہزاروں مصیبتوں سے بچائے گا کیونکہ وہ تمہارے لئے منافق اور تمہاری کامیابی کے لئے دشمن ہے تو کسی نے عرض کیا یا علی ؓ میرے ہزاروں دشمن ہے اور ہر کوئی میری غیبت کرتا ہے مجھے کوئی ایسا اسم دیں جسے میرے دوست زیادہ اور دشمن کم ہوں اور دشمن کبھی مجھ پر حاوی نہ ہو ں امام علی ؓ نے فرمایا۔

کہ جب بھی گھر سے باہر نکلو یَا فتاح یا معز سات مرتبہ پڑھ کر اللہ کا نام لے کر باہر نکلو اور جب بھی کسی سے بات کرو تو ایک مرتبہ اس اسم کو پڑھ کر مسکرا کر بات کرو اللہ کے فضل و کرم سے لوگ تمہاری غیر موجودگی میں بھی تمہاری تعریف کریں گے اورتمہارے دوست بن کر تمہارے مدد گار ثابت ہوں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے معراج کرائی گئی تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا ، جن کے ناخن تا نبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نو چ رہے تھے ،

میں نے پوچھا :جبرئیل! یہ کو ن لوگ ہیں؟ کہا:یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے۔غیبت کے بارے میں قرآن مجید میں ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرً‌ا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِ‌هْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّ‌حِيمٌ (١٢)﴾”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔

تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔”حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:”کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے اس عیب کو ذکر کرے ،

کہ جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہو، آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر وہ عیب واقعی اس بھائی میں ہو جو میں بیان کر رہا ہوں ، تو آپﷺ نے فرمایا: ” اگر وہ عیب اس میں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو وہ تبھی تو غیبت ہے اگر اس میں نہ ہو تو وہ بہتان ہے۔”

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.