کالی مرچ کے دانوں پر یہ وظیفہ کر لو

کالی مرچ کے دانوں پر یہ وظیفہ کر و اور تکیے کے نیچے رکھ کر سو جاؤ! صبح آپ کی قسمت کے بدن تالے کھول دئیے جائیں گے۔ ایسا معجزہ ہوگا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ اللہ کی تعریف: ہاتھی کی سونڈ میں، زرافہ کی گردن میں اور زیبرے کی دھا ریوں میں کس کی قدرت کے نظارے ہیں؟ آج میں آپ دوستوں کے ساتھ ایک ایسا وظیفہ شیئر کر نے جا رہا ہوں جس کو پڑھتے ہی آپ کی قسمت کے بند تالے کھول دئیے جائیں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی قسمت کے تالے کھل جائیں آپ کی زندگی کی تمام رکاوٹیں دور ہو جا ئیں اور آپ کے کندھوں کا بوجھ ہلکا ہو جائے ۔

آپ کا جو مقصد ہے اس میں آپ کو کا میابی مل جائے آپ کے رزق و دولت میں اتنی برکت ہو جائے کہ لوگ حیران رہ جائیں اور سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ اس کے پاس اتنی دولت کہاں سے آ گئی ۔ تو آج ہی اللہ کی ذات پر پختہ اور کامل یقین رکھتے ہوئے عمل کر یں۔ عمل اور ضروری ہدایات: یہ وظیفہ آپ نے نمازِ عشاء کے بعد کر نا ہے اور سورۃ نبی اسرائیل کی آیت نمبر ایک سو پانچ تا ایک سو چھ کو تیتیس مرتبہ پڑ ھنا ہے۔ پانچ مرتبہ دُرودِ پاک پڑ ھنا ہے اور کالی مرچ کے پانچ دانوں پر دم کر کے تکیہ کے نیچے رکھ کر سو جا نا ہے۔ آخر میں اللہ پاک سے دعا مانگنی ہے اس عمل کو ایک روز کر نا ہے۔ نوٹ: اگلے دن وہی کا لی مرچ کے دانے کھانے میں ڈالنے ہیں اور وہ کھا نا صدقہ کر دینا ہے۔

ان شاء اللہ اللہ آپ کی قسمت کے بند تالے کھول دے گا۔ دنیا بھر کی تمام آسائیشیں اور نعمتیں اللہ پا ک آپ کو عطا کر دیں گے۔ اللہ آپ کی زندگی کے ہر میدان میں کا میابی و کا مرانی سے ہم کنار کر ے گا۔ اللہ ہم سب کو ہماری اوقات کے مطا بق نہیں بلکہ اپنی شان کے مطابق نعمتیں عطا فر ما ئے۔ اللہ پاک کے کلام کو سنتے رہیں اور اپنے دلوں کو منور کرتے رہیں اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فر ما ئے۔ اگر آپ اپنے لیے دعا مانگنے سے پہلے دوسروں کے لیے دعا مانگیں گے تو ان شاء اللہ آپ کی دعا ضرور قبول ہوگی۔ وظیفہ کر نے سے پہلے پلے کچھ نہ کچھ صدقہ و خیرات کر لیا کر یں۔ جیسا کہ ہم سب لوگ ہی جانتے ہیں کہ ہر وظیفہ ہماری بہتری کے لیے ہی ہوتا ہےہروظیفہ ہمارے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ تو جو میں آج کا وظیفہ بتا رہا ہوں۔ اس وظیفے کو اگر آپ کر لیتے ہیں تو آپ کی قسمت کے تالے کھل سکتے ہیں اور آپ کی تمام مشکلات زندگانی کی دور ہو سکتی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.