کیا محبت میں ….. جائز ہے؟

اسلام دینِ فطرت ہے جو انسانوں میں موجود جذبہ محبت کا نہ صرف معترف ہے بلکہ اس جذبے کی تسکین کے لیے تعلقات، انس، محبت، دوستی اور رشتوں کی پاکیزہ و شفاف بنیادیں بھی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی معاشرے کی بنیاد خاندانی نظام ہے، اور خاندانی نظام کا قیام، اس کی پائیداری اور تسلسل‘ باہمی الفت و محبت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے اسلام ان تمام افراد سے محبت اور احترام کا تعلق قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے جن کے ساتھ قرابت ، رضاعت یا مصاہرت کی وجہ سے نکاح کرنا حرام ہو۔ یہ رشتے‘ محرم رشتے کہلاتے ہیں۔ اگر مرد و عورت کے مابین قرابت، رضاعت یا مصاہرت کا کوئی رشتہ نہ ہو تو اسلام انہیں۔ایک دوسرے کے لیے نامَحرَم یا غیرمَحرَم قرار دیتا ہے

اسلام غیرمحرم لڑکے اور لڑکی کے درمیان نکاح کے علاوہ محبت کا کوئی تصور قبول نہیں کرتا۔ اسلام کے طرزِ معاشرت میں بوقتِ ضرورت غیر محرم سے بات کرنے میں بھی انتہائی محتاط انداز اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يٰـنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَـلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهِ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo اے ازواجِ پیغمبر! تم عورتوں میں سے کسی ایک کی بھی مِثل نہیں ہو، اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو (مَردوں سے حسبِ ضرورت) بات کرنے میں نرم لہجہ اختیار نہ کرنا کہ جس کے دل میں (نِفاق کی) بیماری ہے (کہیں) وہ لالچ کرنے لگے اور (ہمیشہ) شک اور لچک سے محفوظ بات کرنا۔ اگرچہ اس آیت مبارکہ میں ازواج مطہرات کو مخاطب کیا گیا ہے۔

مگر اس کا پیغام قیامت تک آنے والی تمام عورتوں کے لیے ہے کہ کسی غیر محرم مرد سے ضروری بات کرتے ہوئے بھی نرم لہجہ اختیار نہ کیا جائے مبادا کہ نرم لہجہ اپنانے کو اشارہ و کنایہ ہی نہ سمجھ لیا جائے اور مخاطب اپنے دل میں کوئی جذبات پیدا کر لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنہائی میں غیر محرم عورت کے پاس جانے اور اس سے ضروری بات چیت سے بھی منع کیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا تَلِجُوا عَلَى المُغِيبَاتِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ، قُلْنَا: وَمِنْكَ؟ قَالَ: وَمِنِّي، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمُ جن عورتوں کے خاوند موجود نہ ہوں ان کے پاس نہ جاؤ کیونکہ شیطان تمہاری رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔

حضرت جابر فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ کے لیے بھی ایسا ہی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں میرے لیے بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی اور وہ (میرا ہمزاد) مسلمان ہو گیا۔حدیث مبارکہ میں شیطان کا خون کی طرح دوڑنا، محاورتاً بولا گیا ہے۔

اس سے مراد یہ ہے کہ جب نامحرم عورت اور مرد تنہائی میں ہوتے ہیں تو جذبات ابھرتے ہیں اور شہوت جوش مارتی ہے جو برائی کی طرف مائل کرتی ہے۔ اسی طرح اگر غیرمحرم لڑکا اور لڑکی پریم پتر کریں، پیار و محبت کی باتیں کریں‘ تو قوی امکان ہے کہ وہ برائی پر آمادہ ہو جائیں گے۔ ایک اور حدیث مبارکہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اس حدیث مبارکہ میں صرف دیور نہیں بلکہ تمام نامحرم رشتے مثلاً جیٹھ، چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد، پھو پھی زاد وغیرہ سب شامل ہیں۔ ایک حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔

لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ. فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَارَسُولَ اللَّهِ امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً وَاكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ. تنہائی میں کوئی شخص کسی عورت کے پاس نہ جائے مگر اس کے محرم کے ساتھ۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی یارسول ﷲ! میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے اور (میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے جا رہا ہوں کیونکہ) میرا نام فلاں غزوہ میں لکھ لیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (غزوہ میں جانے کی بجائے) واپس جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.