عورت کا حمل روکنے کا آسان گھر یلو نسخہ

آج آپ سب کے لیے میں ایک چیز لا یا ہوں جو بہت سارے لو گوں کی زبان پر ہوتی ہے وہ یہ کہ عورت کا حمل روکنے کے لیے مبا شرت کر تے ہوئے انزال ( فارغ ہوتے وقت) کے وقت اپنے نفس کو شر مگاہ سے با ہر نکا ل لیا جائے تو حمل نہیں ٹھہر تا۔ دوستو یہ طریقہ بر تھ کنٹرول کے لیے بہت زیادہ مفید ہے مگر کسی طرح اگر چند قطرے منی کے بچہ دانی میں چلے گئے تو حمل ٹھہر سکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مرد اور عورت کی جسمانی صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہے۔ کیو نکہ یہ طر یقہ اس صورت میں غیر فطری عمل ہو جا تا ہے۔ فطری جما ع اس وقت مکمل ہو تا ہے جب انزال ہو جائے اور انزال کا اندام نہا نی ( شر مگاہ) کے اندر ہو نا بہت ضروری ہے ۔

انزال باہر ہونے سے ایک تو عمل غیر فطری ہو جا تا ہے۔ دوسرے منی مکمل طور پر خارج نہیں ہوتی۔ اگر چہ زیادہ مشق کرنے سے منی کو خارج ہونے سے قطعی طور پر روک بھی لیا جا سکتا ہے لیکن اس طرح کا عمل مرد اور عورت دونوں کے لیے بہت خطر ناک بیماریوں میں مبتلا کر دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس عمل کا ایک اور بھی بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ میاں بیوی اس لطف و سرور سے محروم رہتے ہیں جس کی خاطر وہ یہ پورا مشقت عمل کرتے ہیں۔ تو اب آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ یہ عمل کر نا چاہیے کہ نہیں کر نا چاہیے۔؟بہت سے ممالک میں حمل ضائع کرنا ایک جرم سمجھا جاتا ہے ۔ایشیا کے ممالک خاص طور پر پاکستان میں حمل ضائع کرنا غیر اخلاقی اور غیر شرعی فعل تصور کیا جاتا ہے۔

لہذا بہت سے ڈاکٹرز حمل ضائع نہیں کرتے اور جن ہسپتالوں میں حمل ضائع کئے جاتے ہیں وہاں حمل کے تیرہ ہفتوں میں میں ہی حمل ضائع کر دیا جاتا ہے۔تیرہ ہفتوں کے بعد حمل ضائع کرنے سے ماں کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔لہذا حمل کو جانچ کرنے کے فوری بعد ہی گائنی کلینک جانا بہتر فیصلہ ہوتا ہے ۔برتھ کنٹرول پلز انڈوں کو بیضہ دانیوں تک پہنچنے نہیں دیتیں جن سے انڈے فرٹیلائز نہیں ہوتے اور عورت کو حمل نہیں ٹھہرتا ۔عام طور پر برتھ کنٹرول پلز مہینے میں ۲۲ دن استعمال کرنی ہوتی ہیں جن کے استعمال میں باقاعدگی اور اور ایک مقررہ وقت ہونا ضروری ہوتا ہے برتھ کنٹرول پلز ہر دن کے لئے الگ ہوتی ہیں ۔

اس لئے دوا کے پیکٹ میں ہر دن استعمال کرنے والی ٹیبلیٹ کا اشارہ درج ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ ایک گولی کا ناغہ بھی حمل کو نہیں روک پاتا کچھ خواتین برتھ کنٹرول پلز میں موجود ہارمون ایسٹروجن بھی پیدا کرتا ہے جس کے باعث ان کو قے ،الٹی ،سر چکرانا یا ذہنی دبائو محسوس ہوتا ہے لہذا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ان دوائوں کا استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔جو خواتین شوگر ،فالج ،مرگی اور دل کے امراض میں مبتلا ہوں ان کے لئے یہ دوائیں مضر بھی ثابت ہو سکتی ہیں ۔برتھ کنٹرول پلز کے ساتھ دیگر دوائوں ( اینٹی بایوٹک ایکنی اور الرجی )کی دوائیں استعمال کرنے سے پہلے گائنی کولوجسٹ کو بتانا ضروری ہوتا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.