ہے نیا سعودی عرب۔۔ امریکہ سے آئی سعودی لڑکی نے نیا کام شروع کردیا

امریکہ سے ماسٹرز کی ڈگری ہولڈر سعودی خاتون نے پرسوں اور جوتوں کی مرمت کا کام شروع کردیا ہے۔ جدہ میں نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکا میں دوران تعلیم مجھے پتہ چلا کہ جوتوں اور اعلی درجے کے
پرس میں خرابی کی مرمت اچھے سے ہوجاتی ہے۔ بعض خواتین سمجھتی ہیں کہ اب ان کا پرس استعمال کے قابل نہیں رہا اور وہ قیمتی پرس کو کچرے کے حوالے کردیتی ہیں۔ یہی سوچ برانڈ جوتوں کے بارے میں بھی ہوتی ہے۔ سعودی عرب واپس آنے کے بعد میں نے یہ کام شروع کردیا کیونکہ میرے علم کے مطابق مجھ سے پہلے کبھی کسی نے یہ کام نہیں کیا تھا۔ سعودی خاتون کا کہنا تھا کہ جوتے اور پرس بار بار استعمال کرنے اور دھوپ لگنے کی وجہ سے اپنی چمک دمک کھو دیتے ہیں۔ ترمیم اور تجدید سے ان کی اصل رنگت بحال ہو جاتی ہے۔ البازی نے سکالر شپ پر بیرون مملکت تعلیم حاصل کرنے والے سعودی طلبہ و طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ وہاں صرف ڈگری کے حصول میں نہ پڑیں بلکہ ڈگری کے ساتھ نئے تصورات لے کر آئیں۔ کوئی نہ کوئی ایسا ہنریا کاروبار سیکھ کر آئیں جسے وہ اپنے معاشرے میں شروع کر سکیں اور اس سے وطن عزیز کو فائدہ ہوگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.