ایک کریانہ کی دکان پر شوہراپنی بیوی کو ہمت دلا کر..؟

ابھی کچھ دیر پہلے کریانہ کی دکان پر مجھے گھر کا سودا لاناتھا،وہاں ایک منظر نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ۔ ایک فیملی ، ایک خاتون اور ایک شوہر اور تین بچے بھی ساتھ کھڑے تھے۔ دکان میں کافی رش ہونے کی وجہ سے وہ خاتون باربار آگے جاتی اور پھر پیچھے ہوجاتی ۔ اور شوہر سے کہتی اور شوہر ہمت دلاتا کہ آگے جانے کا کہتا ۔ پھر آگے جاتی۔

شاید ہمارے ہمت کے آگے نہیں جا پارہی۔ شاید میں اپنی مگن پر ان پرتوجہ نہ دیتا۔ مگر مسلسل مجھے راستے کا کہہ کر متوجہ کرلیا۔ خاتون نے بڑی ہمت کرکے آدھا آدھاپاؤ دالیں اور ایک کلو آٹا اور مزید کچھ سامان مانگا۔ جس پر دکان ملازم کامنہ بسورنا میں نے دیکھ لیا تھا۔ اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں

لوگ پوری دکان خریدنا چارہے تھے۔ وہاں پر ایک پاؤ سامان لینا ، ملا زم کامنہ بسورنا تو بنتا تھا۔ خیربات پھر کہیں سے کہیں چلی گئی ۔ اور بالآخر سودے کا حساب آن پہنچا۔ جو شاید خاتون کی امید سے کچھ زیادہ بن چکا تھا۔ اسی دوران میں سامان لے چکا تھا۔ جب پیسے دینے کا وقت آیا تو خاتون نے شوہر کی طرف بڑی ہچکچاہٹ سے دیکھااور میں بڑی شرم سے زمین میں گھسیٹتا گیا۔

کیونکہ معاملہ میری سمجھ میں آچکاتھا۔ اس آزمائش کے دور میں بھی لوگ منافع خوری سے باز نہیں آرہے۔ اور کچھ سفید پوش لوگوں کےلیے زندگی بہت تنگ کررہے تھے۔ بس مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے ہمت کرکے شوہر کے پاس گیا۔ جہاں بچے کھڑے تھے ،ان میں ایک بچے کو جو میرے ہاتھ میں تھا وہ تھماکر کہا

کہ بیٹا! یہ ابو کو دے دینا۔ اور کہنا کہ آپ کے دوست نے دیا ہے۔ جس پر آپ کا قرضہ تھا۔ اور پھر ایسا بھاگا جیسے موت میرے پیچھے لگی ہو۔ گھر پہنچا تو آدھی رات ہونے کے باوجود بھی نیند میری آنکھوں میں نہیں تھی۔ افسوس اور شرمندگی سے زمین میں گڑا جارہاتھا۔ اور سوچ رہاتھا کہ اللہ کی نعمتوں کا ہم پر قرضہ نہیں جو ہم اس کی مخلوق کی مدد کرسکیں۔ نہ کہ اس مشکل دنیا میں اپنی دولت کی خاطر اپنی تجوری بھرنے میں لگ جائیں۔ آج سے مجھے اپنا آپ قرض محسوس ہورہاتھا۔

معاشی توازن برقراررکھنے کےلیے اسلام نےمسلمانوں کو صدقہ، زکوٰۃ اور فطرانہ کا نظام دیا ہے۔ تاکہ دولت صرف امیر اور مالدار بندوں میں نہ رہ جائے۔ بلکہ غریب بھی باآسانی زندگی بسر کرسکیں۔ بعض لوگ غریبوں کو زکوٰ ۃ کی شکل میں سامان دیتے ہیں۔ اور بعض مالی مد د کرتے ہیں۔ یقینی طورپر معاشرے کی بہتری

اور ترقی کےلیے انتہائی ضروری ہے۔ لیکن موجودہ دو ر میں لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ایک خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ جس کے باعث صدقہ، زکوٰ ۃ دینے والا ثواب کی بجائے عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک ہوا چل پڑی ہے ۔ کہ فلاں شخص نے اتنی زکوٰ ۃ نکالی ۔ فلاں شخص نے اتنا راشن دیا ، فلاں شخص کامالک اتنا راشن بانٹتا ہے

وغیرہ وغیرہ یعنی اس طرح سے لو گوں میں راشن بانٹنے کاجو رواج اپنایا جاتا ہے۔ وہ بھی قابل مذمت ہے۔ کڑکتی دھوپ میں گھنٹوں گھنٹوں خواتین اور مرد اور بچوں کو لائن میں رکھنا۔ان سے بے تمیزی کرناان کو دھتکارنا اور دھکم پہل اور بھگ دھڑ جیسا سماء پیدا کرنااور زیادہ سے زیادہ شہرت پانے کی امید رکھنا جو کہ انتہائی افسو س ناک ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ راشن دیتے وقت تصاویر اور ویڈیو بنوانا اور

پھر ان کو سوشل میڈیا پر شئیر کرنا اور اس کی دھوم مچانا بھی انتہائی مذموم فعل ہے۔ گھر کی چاردیواری کی خاطر گھرسے نکلنے والی خواتین کی تصویریں ایسی چھپوائی جاتی ہیں۔ جیسے بہت بڑا نیک کام کیا جارہاہو۔ خدارا غریبوں کی مدد کریں۔ ضرور کریں۔ مگر باعزت طریقے سے کریں۔ ان کو غربت کا طعنہ نہ دیں۔

Sharing is caring for!

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.